Categories
آرٹیکلز

پاکستانیوں نے عمران خان سے محبت اور وفاداری کا حق ادا کر دیا ، خبر کی تفصیلات آپ کا بھی دل خوش کر دیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان عمران خاں جن کا شمار دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے جس کا اعتراف دنیا بھر کے تجزیہ کار متعدد بار کر چکے ہیں پاکستانی عوام بھی خواہ وہ دنیا کے کسی ملک میں بھی مقیم ہیں اُنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے پسندیدہ لیڈر وزیر اعظم عمران خاں کی آواز پر


لبیک کہا ہے . ایک نعرہ پہلے سے مقبول ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر تو انشا اللہ پاکستان بنے گا اور ان دنوں بن ہی گیا مگر ہر طرف کشمیر کشمیر ہو رہا ہے۔ جمعرات کے دن جب عمران خان نے کہا تھا 12 بجے کے بعد ہر شخص اپنے اپنے گھر سے باہر نکل آیا ، نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس میں خواتین و حضرات کی تخصیص نہیں تھی۔ ہم سب ایوان کارکنان پاکستان میں تھے۔ سب کے سب باہر نکل آئے اور سڑک پر پہنچ گئے۔ کئی لوگوں کے پاس مختلف بینرز تھے۔ سڑک کے دوسری طرف چند معزز خواتین تھیں۔ ہم نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اس طرح ہمارا مظاہرہ مکمل ہو گیا۔ ہمارے ہمسائے میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے چھوٹے بڑے سب ملازمین بھی باہر نکل آئے۔ ہمیں اچھا لگا۔ ان کی آنکھوں میں وطن کی جو محبت تھی بیش بہا تھی۔ ان کے ہاتھوں میں جھنڈ ے تھے جن کی کسک ہمارے بدن میں بھی سرایت کرتی جا رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑے نعرے لگائے۔ ایوان کارکنان پاکستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے اور پوسٹر تھے جن پر وطن سے وابستگی کے نعرے لکھے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر

زندہ باد کے نعرے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ لگائے جا رہے تھے میں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایسے مظاہرے کبھی نہیں دیکھے۔مجاہد کشمیر اور مجاہد اسلام پروفیسر حافظ سعید سے امریکہ بھارت اور پاکستان تینوں ڈرتے ہیں۔ پاکستان حافظ صاحب کے لیے پریشر برداشت نہیں کر سکتا۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکومتیں ذرا سا دبائو برداشت نہیں کرتیں۔ سب سے پہلی بار حافظ صاحب کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ د یہاتی مزاج کے آدمی ہیں۔ ان میں عسکریت پسندی والی کوئی بات نہیں۔ مگر ان کے پاس دل بہت بڑا ہے اور ان کے چہرے پر خوبصورت داڑھی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک عام سے شخص سے امریکہ اور بھارت ڈرتا ہے اور پاکستان شاید اس لیے ڈرتا ہے کہ ان سے امریکہ اور بھارت کیوں ڈرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے ہی کئی شخص تھے جن سے حکمران ڈرتے تھے۔ اصل میں تخت چھن جانے کا اندیشہ بھی تو ایک ہی شخص سے ہوتا ہے۔ مگر جس شخص کے پاس نہ فوج ہو نہ اس سے ملتی جلتی فورس ہو نہ اس نے کبھی تخت نشینی کے شوق میں جنگیں لڑی ہوں، اس سے خوفزدگی کا کیا جواز ہے؟ جو خوفزدہ ہیں وہ جواز سے کچھ زیادہ ہی خوف زدہ ہیں۔ بظاہر وہ اپوزیشن میں

نہیں پھر ان کے پاس کونسی ایسی پوزیشن ہے کہ حکومتیں اپنے مخالفین میں حافظ صاحب کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھتی ہیں۔ یہ کوئی اندر کا خوف ہے ورنہ باہر کی صورتحال تو ایسی سنگین بظاہر نظر نہیں آتی۔ کشمیر کے حوالے سے بھی میلہ عمران خان نے لوٹ لیا ہے۔ ہر طرف کشمیر کا نعرہ آزاد کشمیر کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جمعہ کے دن جب عمران خان نے بارہ بجے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کی تو سب خو اتین و حضرات باہر نکل آئے۔ کئی خواتین نے کچن میں ہانڈی چولھے پر چھوڑ دی۔ کچھ مردوں کو دوسری جوتی پہننے کا خیال نہ آیا۔ سارے پاکستانی خواتین و حضرات گھروں سے باہر آ گئے۔ عمران خان کے لیے محبت اور اطاعت کا یہ جذبہ خوش آئند ہے۔ آئندہ کوئی اور بات عمران خان نے کہی تو اس پر بھی عمل ہو گا۔ جنگی محاذ پر پہنچنے کی ہدایت کے مطابق کام بھی ہو گا۔ عمران خان نے اپنی کریڈیبلٹی ثابت کر دی ہے۔ لوگوں کا یقین بحال کیا ہے بلکہ اسے یقین محکم بنا دیا ہے۔ لگتا ہے کہ اب وہ جو کہے گا لوگ اس پر پورا پورا عمل کریں گے۔پہلے اعتراض یہ تھا کہ عمران خان کے دوست اس جیسے نہیں ہیں۔ اس کی ٹیم اچھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ لوگ مکمل طور پر

اس کا ساتھ نہیں دے رہے مگر اب تو ڈاکٹر بابر اعوان جیسے لوگ اس کے ساتھ دل و جان سے ہیں۔ امید ہے کہ اب جو امید یں لوگ عمران خان سے رکھتے ہیں وہ ضرور پوری ہونگی۔ جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے اور جو مسائل انہیں درپیش ہیں ان کا عمران خاں کو علم ہے اور احساس بھی ہے اور یہ عزم بھی ہے کہ وہ ان سب باتوں سے نبردآزما ہونگے۔ سب سے بڑی بات مہنگائی کی ہے ، یہ مہنگائی اس دور کی نہیں ہے۔ اس میں پچھلے کئی ادوار کا حصہ شامل ہے مگر ایسا انتظام کیا جا رہا ہے، ایسے اہتمام حکومت کے سامنے ہیں کہ سب مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ ویسے بھی یہ درست نہیں ہے کہ حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو پانچ سالہ کارکردگی کے ساتھ پرکھا جائے۔ البتہ آئندہ کچھ عرصے میں حیرت انگیز تبدیلیاں نظر آئینگی اور مخالفین نے تبدیلی کے لفظ کا جس طرح مذاق بنا لیا ہے حیران رہ جائیں گے۔ انہیں بھی تبدیلی کے لفظ پر یقین آ جائے گا۔ اس سے پہلے بھی عمران خان کی قسمت پر کئی حیران کُن باتیں موجود ہیں اور لوگوں کی یاد میں تو اب جو کچھ ہو گا۔ وہ بھی انہیں یاد رہے گا۔ بس وہ اتنا کریں کہ عمران پر وہی اعتماد رکھیں جو پہلے رکھتے تھے اور تھوڑا انتظار کریں۔ ہماری قوم کو انتظار کرنا نہیں آتا ، صرف انتشار کرنا آتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ انتظار کریں اور اعتبار بھی کریں۔ اعتبار کے بغیر انتظار بے معنی ہے اعتبار کریں اور انتظار کریں۔انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

Categories
اہم خبریں

رات گئے بڑاسیاسی دھماکہ : کپتان نے زرداری کو جیل بجھوا کر پیچھے سے پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی وکٹ گرا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) الیکشن 2018 سے قبل یہاں پر ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف نے تمام سیاسی جماعتوں کی بڑی بڑی وکٹیں گرا کر ساری جماعتوں کو کنگال کر دیا تھااب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا مگر کپتان اب بھی مخالفین کی کٹیں گرا رہے ہیں اب رات گئے


پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق نائب صدر اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر، معروف سیاسی و سماجی راہنماء حاجی محمد گلزار اعوان نے پی پی پی کو راولپنڈی کینٹ میں ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون محمد بشارت راجہ، پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر زاہد حسین کاظمی اور جنرل سیکریٹری عامر محمود کیانی کی موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے. اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب حاجی محمد گلزار اعوان کی رہائش گاہ واقع ویسٹریج میں منعقد ہو ئی جس میں محمد بشارت راجہ، صدر زاہد حسین کاظمی، عامر محمود کیانی کے علاوہ معروف مذہبی راہنماء پیر کرامت، علمائے کرام، دیگر پارٹی راہنماء اور حاجی محمد گلزار اعوان کے سینکڑوں سپورٹرزبھی موجود تھے. پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے حاجی محمد گلزار اعوان کے اس فیصلے کو زبردست پذیرائی بخشی گئی. محمد بشارت راجہ نے کہا کہ حاجی محمد گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے راولپنڈی کینٹ میں پارٹی مضبوط اور زیادہ فعال ہو گی. انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک سے روایتی سیاست، کرپشن، نا انصافی اور

لاقانونیت کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ

با اثر حکمرانوں پر بھی قانون کو لاگو کیا گیا. انہو ں نے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ جس طرح پاکستان تحریک انصاف لڑ رہی ہے اس کی توفیق سابقہ کسی حکومت کو نہ ہو سکی. یہ ہمارا اخلاص اور وطن عزیز کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے کہ ہمیں حاجی محمد گلزار اعوان جیسے انتہائی متحرک و فعال ساتھی مل رہے ہیں. زاہد حسین کاظمی اور عامر محمود کیانی نے بھی حاجی گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے مل کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی جدوجہد کرنی ہے جس میں ہمیں مخلص اور صحیح معنوں میں کام کرنے والے ساتھی مل رہے ہیں. حاجی محمد گلزار اعوان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور پارٹی منشور پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گذشتہ سالوں میں رات دن ایک کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے خاموش بیٹھے ورکروں کو گھروں سے نکالا اور پارٹی کو فعال بنایا مگر پارٹی قیادت کو شائد کام کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے جن کے سرد رویے سے پارٹی کارکنوں میں شدید مایوسی پھیلی. انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی پردے پر تحریک انصاف کے سوا کوئی دوسری جماعت نہیں جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے باہر نکال سکے. انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پورے خلوص نیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو دنیا پر اجاگر کرکے اس کے حل کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ توفیق سابق حکمرانوں کو نہ ہو سکی

Categories
اہم خبریں

بھارت کی وی وی آئی پیز کیلئے فضائی حدود بند کرنے کے بعد اب کس کی باری ہے؟ پاکستان نے دو ٹوک اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی وجہ سے بھارتی صدر رام ناتھ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ بھارت کو مزید رعایت نہیں دیں گے، تمام

متعلقین سے بات کرکے فضائی حدود بند کی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ کشمیر میں مودی حکومت کا رویہ قابل نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وی وی آئی پی کے علاوہ بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کرنا بھی زیر غور ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے یوم دفاع کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے روکا گیا ہے، ہم کیسے یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں؟فاقی کابینہ اور پارلیمنٹ بھی بھارت کو مزید رعایت دینے کے لیے راضی نہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 34 روز سے کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں بربریت اور ظلم ہو رہا ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی صدر نے آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں بھارتی قیادت کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔

Categories
اہم خبریں

بالآخر حکومت کو عوام پر رحم آ ہی گیا ۔۔۔۔ قیمتوں میں کمی کے حوالے بڑا اعلان کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ دو حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے موجودہ حکومت کو اپنے ابتدائی دِنوں سے ہی سخت معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سب معاشی مشکلات کے موجودہ حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اب


اطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے تندروں کیلئے گیس کے نرخوں میں اضافے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی وزیراعظم کا بنیادی ہدف اور اولین ترجیح ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر پرفارم نہیں کریں گے تو وزیراعظم کو بھی گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سب کو پرفارم کرنا پڑے گا ورنہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر واپس جائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صرف ایک پیمانہ پرفارمنس ہے جو نہیں دے گا وہ جائے گا۔معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان آج لاہور وزیریاسمین راشد اور وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہی تھیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کے شعبے میں یہ ریفارمز بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔ مہذب معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے پیرا میٹرز لانے پڑتے ہیں۔ہسپتال جب بنے تو مختلف قوانین آتے رہے ہیں۔جب تک مسئلے کی جڑ کو نہ پکڑا جائے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں پرچی کی کوئی فیس نہیں ہے، فری علاج ، فری ٹیسٹ اور فری ادویات ہوں گی۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں صحت کے شعبے میں دیے گئے پیسے صحیح طرح سےعوام پرخرچ ہوں۔ اگر ہسپتالوں کا سسٹم اچھا ہوتا تو اصلاحات کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 14 ہزار ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کیے ہیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کی نجکاری نہیں ہورہی۔ حکومت عوام پر پیسے خرچ کرے گی اور ہسپتالوں سے حساب کرے گی۔ اگرحکومت آپ کو نوکری دی رہی ہے تو آپ حکومت کے ملازم ہیں۔ ہر سال ہسپتالوں کی آڈٹ رپورٹ بنائی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے تحت لوگ نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کرا سکتے ہیں۔ ہیلتھ کارڈ سے 93 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ وہ نقصان اٹھائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہی کیوں نہ ہوں۔

Categories
اہم خبریں

عمران خان کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ تحریک انصاف سے سب سے مضبوط امیدوار کا حیران کن نام سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خاں اور اُن کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں قبل ازیں خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ میاں محمد سومرو کو وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تاہم اب حکومتی جماعت کے بڑے حامی صحافی


سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے تاہم انکی پارٹی میں موجود چند اہم لوگوں کی مخالفت سے یہ خواب پورا نہ ہوا لیکن اب وہ وزیراعظم کےاہم امیدوارہونگے۔ ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پاکستان بننے کے بڑے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت میں آئی تو قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے لیکن ایسا نہ سکا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے عثمان بزدار پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جلد عثمان بزدار کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے

اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کےارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے

گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

Categories
اہم خبریں

ایک اور بین الاقوامی ادارے نے پاکستانی آرمی چیف اور پاک فوج کی کس صلاحیت کا واضح اعتراف کر لیا ؟ شاندار خبر آگئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر فوج کا اثر و رسوخ نمایاں ہے تاہم پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں۔ امریکی قانون سازوں کے لیے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی تیار کردہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب واشنگٹن میں


کشمیر کے تنازع سے متعلق خدشات زور پکڑ رہے ہیں۔واشنگٹن میں موجود پالیسی ساز کا ماننا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کس طرح ردِ عمل ظاہر کرے گا اس کا تعین کرنے میں فوج فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور بظاہر اسی وجہ سے سی آر ایس نے فیصلہ کرنے کے عمل میں فوج کے کردار پر امریکی قانون سازوں کے لیے بریفنگ تیار کی۔رپورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال کی توسیع ملنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں واضح طور پر پروفیشنل اور غیر سیاسی مانا جاتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق حالانکہ فوج نے 72 برس میں 3 سویلین حکومتوں کو ختم کیا تاہم انہوں نے یہ واضح یا ضمنی صدارتی احکامات پر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خاتمے اور ایسی فلاحی ریاست جو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے گی کا نعرہ بلند کر کے بہت سے نوجوانوں، شہریوں اور مڈل کلاس ووٹرز کو متحرک کیاتاہم ان کوششوں کا آغاز ملک کے شدید مالی بحران، حکومتی سادگی اور غیر ملکی قرضے لینے کی ضرورت سے ہوا۔سی آر ایس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے فوج کے ساتھ اچھے مراسم ہیں اور گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات نے پاکستان کی سیاست پر 2 دہائیوں سے زائد جاری 2 خاندانی جماعتوں کے غلبے کو ڈرامائی طور پر ختم کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کی اقتصادی نمو حالیہ سالوں کے دوران اچھی رہی لیکن آبادی میں اضافے کی رفتار کے حوالے سے کم ہے ۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان لڑنا بھی جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ قوم اسکے ساتھ کھڑی ہے ، جلد وہ پوری دنیا کو کیا سرپرائز دینے والا ہے ؟ سینئر پاکستانی صحافی نے پیشگوئی کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معاشی چیلنجزز سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ملکی حالات آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہیں اسی طرح پاکستان کے حکمران عمران خان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بنے ہوئے ہیں اور کشمیر کے مسئلے پردنیا کے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ عمران خان

کشمیر کے سفیر کا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے نیویارک ٹائم میں اپنے ایک مضمون میں نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر دنیا کی طاقتوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کشمیر پر جنگ کے اثرات سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یعنی کشمیر پر ایٹمی جنگ کی صورت میں اس خطے میں جو تباہی آئے گی اس کے بعد کسی بھی ملک کابھارت کے ساتھ تجارتی مفاد اپنی موت آپ مر جائے گا۔ یعنی اس وقت جو ممالک اپنے تجارتی مفاد کو سامنے رکھ کر بھارتی خوشنودی کے لیے کشمیری مسلمانوں کی حمائت سے گریز کر رہے ہیں وہ اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔عمران خان نہایت دانشمندی سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ،وہ بے حوصلہ نہیں ہیں، وہ لڑنا جانتے ہیں، ان کے پیچھے پوری پاکستانی قوم یک زبان ہو کر کھڑی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس کے سہارے پاکستان کی حکومت کشمیر پر اپنا واضح موقف دنیا بھر کے سامنے ڈٹ کر پیش کر رہی ہے۔ یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں قوم والہانہ وار کشمیریوں کے حمائت میں جس طرح باہر نکلی ہے اس سے

حکومت کے اس موقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ پاکستانی قوم مشکل کی اس گھڑی میں اپنی حکومت کے ساتھ ہے۔برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں مسلمان سات آٹھ سو برس کی حکمرانی کے بعد زوال پذیر ہوئے تو وہ اپنے سے طاقت ور انگریزوں کے غلام تو بن گئے مگر انھوں نے یہ غلامی دل سے کبھی قبول نہ کی۔ اس دور کے علماء اور مسلم مفکرین نے برطانوی سامراج کے خلاف جدو جہد کی اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ہاتھوں تکلیف پہنچی، ان غلام مسلمانوں نے ان کی عملی مدد میں کوتاہی نہیں کی۔ لیکن آج ماضی کے غلام مسلمان اپنے سے امیر اور آزاد مسلمانوں کی جانب سے ہمدردی کے چند لفظوں کو ترس رہے ہیں۔سیاست کے ساتھ اسلامی علوم میں جو تحقیق ہندوستان میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندوستان کے مسلمان علماء اور محققین کو اسلامی دنیا نے تسلیم کیا اور ایک ضرب المثل دنیا میں مشہور ہوئی کہ قرآن عرب میں نازل ہوا، مصر میں پڑھا گیا ، استنبول میں لکھا گیا اور ہند میں سمجھا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی اسلامی اور قرآنی علوم سے آشنائی پر اس سے بڑا خراج تحسین اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہند کے مسلمان

غلام ضرور تھے مگر بے حد جاندار، غلامی ان کے اندر سے اسلامی احساس اور حمیت کا جوہر ختم نہ کر سکی چنانچہ پوری اسلامی دنیا کسی مادی امداد یا دینی فہم کے لیے ہند کے مسلمانوں کی طرف دیکھتی رہی ۔جب ان مسلمانوں نے اپنا آزاد ملک قائم کیا تو دنیا میں اس اسلامی نظریاتی ملک کا اس قدر غلغلہ برپا ہوا کہ مصر کے شاہ فاروق نے طنزاً اور حسداً کہا کہ اسلام تو 1947 میں نازل ہوا ہے لیکن پوری اسلامی دنیا کے عوام نے پاکستان کے قیام کا زبردست جذباتی اور مخلصانہ خیر مقدم کیا اور اس ملک کو اپنا بازوئے شمشیر زن سمجھا۔ اپنے قیام کے پچاس برس بعد اس اسلامی نظریاتی ملک نے ایٹم بم بنا کر مسلمانوں کی ان امیدوں کو پورا بھی کر دیا ۔ایک طرف تو اسلامی دنیا پاکستانیوں کی طرف مڑ مڑ کردیکھتی تھی لیکن دوسری طرف اس اسلامی پاکستان کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جن کا ناموں کے سوا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انگریزوں نے تو انھیں آزاد کر دیا تھا مگر انھوں نے آزاد ہونے سے انکار کر دیا تھا اور انگریز کے پروردہ اور ان کی باقیات پاکستان کے حکمران بن گئے۔ اس قماش کے لیڈروں کے تحت پاکستان کیا کوئی آزاد اسلامی ملک بن سکتا تھا، بلکہ یہ

ملک تو اپنی جغرافیائی وحدت بھی برقرار اور قائم نہ رکھ سکا۔ ان لوگوں نے پاکستان کی جو گت بنائی اس کو دیکھتے ہوئے آج ڈر لگتا ہے۔دیار ہند کے مسلمان حیرت انگیز حد تک ایک جاندار قوم ہیں ان کی بڑی تعداد ہندوئوں کے ہندوستان میں ہے لیکن کشمیر میں بھارت کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہی ہے ۔ بنگلہ دیش جسے ہندوستان نے آزادی دلائی تھی اپنی علیحدگی کے بعد پاکستان کے حکمرانوں اور بھارت کی قوم سے نفرت کرنے لگا اور باقی ماندہ پاکستان نے بخدا روسی سامراج کے خلاف ایسی جنگ لڑی کہ اسے پسپا ہوتے ہوئے سامراج کو ماسکو میں بھی پناہ نہ ملی اور یہ سلطنت تاریخ کی قبر میں دفن ہو گئی۔ایسا تماشہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی نسل نے یہ سلطنت بنتی اور پھر ختم ہوتے ہوئے دیکھ لی ۔ پاکستانیوں اور افغانوں کا یہ مشترکہ کارنامہ اتنا حیران کن تھا کہ مادی اعتبار سے کمزور پاکستان اور افغانستان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پاکستانی تو آج تک اس کارنامے کو اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ احساس کمتری انھیں پریشان رکھتا ہے۔پاکستان کے اندر آزادی کے بعد عوام اور حکمران طبقے میں جنگ شروع ہو گئی ۔ حکمرانوں کا چونکہ عوام سے کوئی تعلق نہیں رہا اس لیے اس ملک کے استحکام کی کوئی

سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ لیکن اس کے باوجود عوام کے اندر ایک غیرت مند زندگی باقی رہی۔ پاکستان کے بقاء کی ضمانت ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی جانب سے کئی حربے استعمال کیے گئے لیکن یہ غیرت مند قوم ہمیشہ ان عالمی طاقتوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ قوم زندہ ہے اسی طرح پاکستانی قوم مرتے مر جائے گی مگر بھارت کی بالادستی قبول نہیں کرے گی۔بھارتی بالا دستی قبول کرنے والے ماضی کے حکمرانوں نے طاقتور ملک کو کمزور بنانے کی کوشش کی ۔ یہ ملک غریب نہیں تھا اسے لوٹ مار کر کے غریب بنا دیااور یہ سب کچھ غلط رو قیادت نے کیا ہے ۔ یہ قوم ایک اچھی اور سچی قیادت کی منتظر ہے جس دن اس زندہ قوم کو صحیح قیادت مل گئی یہ نہ کمزور رہے گی اور نہ غریب رہے گی اسے اپنا تعارف بھی مل جائے اور اپنی شناخت بھی اور پھر کسی بھارت کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ وہ دن دہاڑے کشمیر پر قبضہ کرے اور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، زندہ اور جاندار قوم نے کشمیر کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے ۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا.

Categories
انٹرٹینمنٹ

اس تصویر کو غور سے دیکھیں آخر اس میں ایسا کیا ہے ؟ ذہن کو مبہوت کر دینے والی چند تصاویر اس لنک میں ملاحظہ کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا میں نت نئے کارنامے سامنے آتے ہیں جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں ذیل میں دی گئی تمام تصویریں ساکن ہیں لیکن اگر آپ صرف چند سیکنڈ کےلیے انہیں نظر جما کر دیکھیں گے تو یوں لگے گا جیسے ان میں حرکت ہورہی ہے، حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں۔ اور تو اوراگر آپ ان میں سے کسی بھی

تصویر کو صرف ایک منٹ کےلیےٹکٹکی باندھ کر دیکھیں گے تو یوں لگے گا جیسے آپ کا سر چکرانے لگا ہے۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: عمران خان کا فیصلہ درست ثابت ہوا ۔۔۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تازہ ترین خبر پڑھ کر آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دستخط شدہ اصلاحی ایجنڈا اپنی راہ پر گامزن ہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ


اہداف حاصل کرلے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران تمام کار کردگی اور ساختی بینچ مارک بہت حوصلہ افزا ہیں اور تمام اہداف پورے ہوجائیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری اصلاحی پروگرام پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ خیال رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب میڈیا میں یہ رپورٹس منظر آئیں کہ مالی 19-2018 کے اختتام پر بڑے خسارے پر پروگرام سے متعلق دوبارہ بات چیت جاری ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام اہداف مکمل ہوجائیں گے، اس پر آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کو آئی ایف ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور کے دورہ پاکستان سے متعلق غلط فہمی ہوئی۔وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے وزارت کے حکام جہاد آزور سے ملاقات کریں گے اور انہیں اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کریں گے۔اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ دورہ توسیعی فنڈز سہولیات پروگرام کے حتمی ہونے کے فوری بعد ان کے ستمبر میں دورہ پاکستان کو ترتیب دیا گیا تھا، تاہم میڈیا میں اسے نظر ثانی مشن قرار دیا گیا، ان کا یہ دورہ روٹین ہے نظر ثانی نہیں ہے۔وزارت نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد آئی ایم ایف کی تکنیکی بات چیت ہوگی جس میں دونوں فریقین اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

Categories
اہم خبریں

محرم الحرام میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، ڈالر کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ بڑا تہلکہ

کراچی (ویب ڈیسک )سٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی، ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا اور انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30467 کی سطح پر بند ہوا، شئیرز کی قیمت بڑھنے پر

مارکیٹ کپیٹلائزئشن 105 ارب روپے اضافے سے 6187 ارب روپے ہوگئی،مہنگائی کی روح توقعات سے کم رہنے پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا،100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30 ہزار467 کی سطح پر بند ہوا، شیئرز کی قیمت بڑھنے پر مارکیٹ کپیٹلائزیشن 105 ارب روپے اضافے سے 6 ہزار187 ارب روپے ہو گئی۔ دوسری جانب ڈالر کی ہفتے وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا، ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 156.85 سے کم ہوکر 156.32 پیسے ہر بند ہوا جبکہ اوپن ایکسچینج میں ڈالر 50 پیسے سستا ہوا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے گا،عدالت نے انسانی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کئے عدالت کے فیصلہ سے ثابت ہواکہ وہ آزاد ہیں اور امید ہے کہ اب (ن) لیگ عدالتوں پر انگلیاں نہیں اٹھائے گی،جو پیسے دے گا وہی باہر جائے گا لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ فی الحال کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے، کوئی ہسپتال پرائیویٹائز نہیں کیا جا رہا، پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں، حکومت کے صحت کے شعبے میں عام آدمی کو تمام سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے، پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی عوام تک پہنچائی جائے گی،ہسپتالوں میں مشینوں کی خرابی کی صورت میں متعلقہ بورڈ فوری فیصلہ کرے گا، اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔۔۔۔ پاکستان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شمار وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے اور کچھ ماہ پہلے ان کی طرف سے پاکستان کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔ اور اب اہم خبر آئی ہے کہ سعودی عرب نے سعودی ولی عہد کے


دورے کے دوران پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کرادی ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وفد نے وزیر توانائی کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کیا، سعودی وفد نے مشیرتجارت زراق داود سے ملاقات کی، جس میں سعودی عرب کی جانب سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سعودی وزیر توانائی نے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پرعمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا پاکستان میں پیٹرو کیمیکل ریفائنری لگائی جائے گی جو کہ ایک بڑا اور اہم منصوبہ ہوگا۔مشیرتجارت زراق دائود کا کہنا تھا کہ پاکستان کے توانائی سیکٹرمیں بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اس سیکٹر میں سعودی عرب کو سرمایہ کاری انتہائی سود مند ثابت ہوگی دوسری خبر کے مطابق چین کا اقتصادی راہداری کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیاہے اور بتایا کہ چین کا پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی منصوبہ ہے ۔چین کے سفارتکار نے کہا کہ پاک چین فری ٹریڈ ایگری منٹ کے دوسرے مرحلے کو اکتوبر میں حتمی شکل دیدی جائے گی جس کے باعث زرعی مصنوعات اور سمندری غذا سمیت 90 فیصد برآمدات پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہو گی ۔ان کا کہناتھا کہ مارکیٹ کی رسائی پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر کا اضافہ کرے گی جو کہ باہمی تجارت کے خلاکو بھی کم کرے گی ۔انہوں نے شرکاءکو چین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک بلین ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبے سے متعلق بھی آ گاہ کیا ۔ چین کے ایلچی نے بتایا کہ چین کی کاروباری خواتین کو اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں ایکسپو میں بھی دعوت دی جائے گی جو کہ نومبر میں ہونے جارہی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ اس کے علاوہ پاکستان کی کاروباری خواتین کو چین میں ہونے والی ایکسپوز میں شرکت کیلئے بھیجا جائے گا تاکہ وہ کاروبار کے مواقع تلاش کر سکیں ۔

Categories
پاکستان

وزیراعظم بننے کی جنگ شروع!۔۔عمران خان کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ تحریک انصاف سے سب سے مضبوط امیدوار کا نام سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خاں اور اُن کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں قبل ازیں خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ میاں محمد سومرو کو وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تاہم اب حکومتی جماعت کے بڑے حامی صحافی


سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے تاہم انکی پارٹی میں موجود چند اہم لوگوں کی مخالفت سے یہ خواب پورا نہ ہوا لیکن اب وہ وزیراعظم کےاہم امیدوارہونگے۔ ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پاکستان بننے کے بڑے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت میں آئی تو قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے لیکن ایسا نہ سکا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے عثمان بزدار پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جلد عثمان بزدار کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے

اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کےارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے

گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

Categories
اہم خبریں

’’نواز شریف ڈیل کے لیے راضی ہو گئے۔۔۔‘‘ کتنے ارب ڈالرز دینے کی یقین دہانی کروا دی ؟ پوری قوم کو حیرت میں ڈال دینےو الی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک آن لائن) سابق وزیر اعظم پاکستان و قائد مسلم لیگ ن نواز شریف ان دِنوں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اب نواز شریف کی تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے بہت بڑی خبر سامنے آ گئی ہے۔ اہم تفصیلات کے مطابق قائد ن لیگ


نواز شریف 14 ارب ڈالرز دینے کیلئے راضی ہوگئے، آفتاب اقبال کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ کافی تنگ ہیں، 14 ارب ڈالرز کی رقم صرف نواز شریف کی طرف سے آئے گی، شریف خاندان کے باقی لوگوں سے ملنے والی رقم الگ ہوگی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں سہولیات کی کمی کے باعث کافی تنگ ہیں۔جیل کے جس سیل میں انہیں رکھا گیا ہے وہاں لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نواز شریف ان ہی مشکلات کے باعث 14 ارب ڈالرز کی رقم دینے کیلئے راضی ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے معروف اینکر آفتاب اقبال کا دعویٰ ہے کہ 14 ارب ڈالرز کی جس رقم کی بات ہو رہی ہے وہ تو صرف نواز شریف دے رہے ہیں۔نواز شریف کے علاوہ شریف خاندان کے مزید افراد بھی ہیں اور ان سے بھی پیسہ نکلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ بد عنوان سیاستدانوں نے پیسے دینا شروع کر دئے۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے دوستوں نے پلی بارگین کی کوششیں شروع کر دی ہیں جبکہ نواز شریف کا بھی یہی ارادہ ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی قسمت بدلے گی، دس ہزار نوکریاں دے دی ہیں، کابینہ نے دس ہزار مزید نوکریوں کی منظوری دے دی ہے۔حکومت کا ایک لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کوریا میں بھی ایک صدر جیل میں ہے دوسراقتل ہو گیا ہے، جو بے ایمان ہو گا، دھوکہ دے گا، عوام اور میڈیا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز یوم دفاع کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر حل ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ہندوستان گزشتہ 72 سالوں سے کشمیریوں کے ساتھ بربریت کررہا ہے لیکن اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی سازش ہے کہ وہاں پیسہ لگائے اور کشمیریوں کو ویزوں کا لالچ دے لیکن کشمیری سوائے آزادی کے کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ مودی نے22 /24 کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر کے معاملے کو چھیڑ کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔دنیا میں قومیں تباہ ہوتی ہیں لیکن پھر کھڑی ہوجاتی ہیں مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ ان میں جذبہ زندہ ہو۔شیخ رشید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشا اللہ وقت آنے پر پاکستان کے جھنڈے تلے اپنی جان دینے میں فخر محسوس کریں گے۔

Categories
آرٹیکلز

تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) ۔۔۔؟ سارے حالات اور واقعات دیکھ کر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگلے الیکشن میں پنجاب میں یہ جماعت آسانی سے بازی جیت لے گی ۔۔۔ سہیل وڑائچ کی تہلکہ خیز پیشگوئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال گزر چکا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وہ تب بھی طاقتور تھا وہ آج بھی طاقتور ہے۔ وہ کھیل کے شعبے میں تھا تو اس پر راج کرتا تھا، سیاست کے شعبے میں آیا تب بھی راج کرتا ہے۔ کھیل میں تھا تب بھی

اس کا فیصلہ حرفِ آخر ہوتا تھا، سیاست میں بھی وہ جو کہہ دے اسے سب کو ماننا پڑتا ہے۔ نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ میں تھا تو سب سمجھاتے تھے کہ منصور اختر نہیں چل پائے گا مگر وہ کہتا تھا نہیں، اس کا بلا سیدھا ہے، اس سے اچھی کور ڈرائیو کوئی نہیں کرتا، اسے کھلائو، یہ ہر صورت کھیلے گا۔ سب کو منصور اختر کو کھلانا پڑتا، وہ کھیلتا رہا مگر چمک نہ سکا اور پھر رفتہ رفتہ غروب ہوگیا۔ کہتے ہیں پرانی عادتیں مشکل سے جاتی ہیں، یہی چلن سیاست میں جاری ہے۔ ہر کوئی کہتا یہ وسم اکرم پلس نہیں، منصور اختر ہے۔ وہ کہتا ہے نہیں، یہ صاف شفاف ہے، سادہ ہے، پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تابع فرمان ہے، یہ چمکے گا، یہ وسیم اکرم کی طرح چھائے گا مگر ابھی تک وہ منصور اختر بنا ہوا ہے۔ دیکھیں فیصلہ کرنے والا سوچ بدلتا ہے یا پھر منصور اختر گھر جاتا ہے۔ سیاسی منصور اختر ملنے جلنے میں بہت اچھا ہے مگر گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک سال سے کم عرصے میں ایک صوبائی محکمے کے 10سیکرٹری بدل چکے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک میں ایک سال میں 3سیکرٹری آچکے ہیں۔ 2ماہ میں ایک ڈپٹی کمشنر کے 3تبادلے ہوئے، اکھاڑ پچھاڑ کا

تماشا لگا ہوا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور اوکاڑہ پر پنجاب سیکرٹریٹ کا حکم نہیں چلتا بلکہ وہاں روحانیت کے ہالے قائم ہیں جن پر کسی اور کا بس نہیں چلتا۔ سیاسی منصور اختر اپنے لیڈر سے ہر ملاقات میں وعدہ کرتا ہے کہ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہاں آکر پروٹوکول کی تام جھام میں کھو جاتا ہے۔ ابھی پی ٹی آئی کے ورکرز کو ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں، زکوٰۃ کمیٹیاں اور بے شمار سیاسی اسامیاں خالی ہیں لیکن ان پر کسی کی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ بلدیاتی ادارے توڑ دیئے گئے، ان کے کروڑوں کے فنڈز نوکر شاہی کے پاس ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ان فنڈز سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی وزرا، ارکانِ اسمبلی اور لیڈروں کو شکایت ہے کہ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے افسر تعینات نہیں کئے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں ہر رکن صوبائی اسمبلی کو اپنی مرضی کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز دیئے گئے ہیں۔ لامتناہی کہانیاں ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ منصور اختر ہی کھیلے گا، یہی وسیم اکرم پلس ہے۔ وہ بڑی آن اور شان والا ہے، اپنی اّنا پر آنچ نہیں آنے دیتا، کرکٹ میں تھا تب بھی اسی کے فیصلے چلتے تھے، سلیکشن کمیٹی اور بورڈ جو

مرضی کہتے رہیں، چلتی اسی کی تھی۔ اسی لئے منصور اختر نے 19ٹیسٹ میچ کھیلے، 25رنز کی اوسط رہی۔ اس سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں اور یوں بالآخر وہ غروب ہوا۔ اب وہ سیاست میں ہے، یہاں بھی اس نے نئے منصور اختر سے امیدیں لگا لی ہیں۔ ایجنسیاں، ادارے اور شخصیات سب اس کے بارے میں رپورٹس دے چکے ہیں، بڑے صاحب بھی مطمئن نہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ اپنی اّنا پر آنچ کیسے آنے دے؟پی ٹی آئی حکومت کا پنجاب میں ایک سال گزر گیا۔ 40سال کے طویل عرصے کے بعد صوبے میں شریف خاندان کی مخالف حکومت آئی تھی، اس کو سیاسی حقائق بدلنے تھے مگر ایک سال میں نون لیگ کا ایک بھی ووٹ توڑا نہیں جا سکا، تکالیف کا شکار ہونے اور جیلوں میں بند ہونے کے باوجود نون لیگ کا ووٹ بینک برقرار رہنا دراصل پنجاب حکومت کی سیاسی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک سال کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کروا کے گراس روٹ پر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی مگر یہ منصوبہ بندی کون کرے؟ پنجاب کے شہری مراکز یعنی لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جہاں نون لیگ کی اصل طاقت ہے ، وہاں سرے سے کوئی سیاست ہی نہیں کی جارہی۔ ان شہروں میں

نون لیگ کی اصل طاقت مڈل کلاس تاجر ہیں، حکومت انہیں ناراض کرنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رہی۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے پنجاب حکومت نے کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں بنایا جو مقبولِ عام ہوا ہو۔ زمینداروں اور کاشت کاروں کو نون لیگ سے ہمیشہ شکایت رہی کہ وہ کسان دوست پالیسیاں نہیں بناتے، تحریک انصاف کے لئے سنہری موقع تھا کہ وہ کاشتکاروں کے دل جیت لیتی، کسان دوست پالیسیاں بناتی اور نون لیگ کا ووٹ بینک توڑ لیتی مگر اس طرف سوچا ہی نہیں گیا۔ وقت کے ساتھ جو تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ محروم طبقات میں عمران کی مقبولیت ہے۔ کسی زمانے میں پنجاب کا یہ طبقہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تھا لیکن اب اس کا رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے۔ یہ انتہائی وفادار ووٹ بینک ہے مگر پنجاب حکومت نے تاحال اس کو کوئی سہولت دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ کل کو جب آئندہ انتخابات ہوں گے تو پنجاب میں مقابلہ نون لیگ اور تحریک انصاف میں ہوگا، پیپلز پارٹی تاحال پنجاب میں اپنے قدم نہیں جما سکی۔ نون لیگ کی لیڈر شپ مطمئن ہے کہ اس کا ووٹ بینک برقرار ہے اور پی ٹی آئی کی معاشی پالیسیاں

نون لیگ کے ووٹ بینک کو اور مضبوط کر رہی ہیں۔ متوسط اور تاجر طبقات کو نون لیگ کی معاشی پالیسیاں بڑی راس آئی تھیں اور پچھلے تیس سال میں تاجروں کے معاشی مفادات میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اس لئے انہیں اپنے معاشی مفادات پر پی ٹی آئی کی ٹیکس تلوار پسند نہیں آرہی اور وہ اپنے بزنس کو سکیڑ کر بیٹھ گئے ہیں جس کا ملک پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ نون لیگ اور شہباز شریف کا طرزِ حکمرانی نوکر شاہی کو ساتھ ملا کر چلنے کا تھا، پنجاب حکومت ابھی تک گورننس کا کوئی بھی ماڈل طے نہیں کر سکی، آدھا تیتر، آدھا بٹیر چل رہا ہے۔ طوائف الملوکی کی سی صورت حال ہے، طاقت کے مراکز بنی گالا سے لے کر لاٹ صاحب تک پھیلے ہوئے ہیں، بڑی بڑی شخصیات اور ناموں والے تو اپنے کام نکلوا رہے ہیں مگر غریب کارکن کی کوئی شنوائی نہیں۔وقت گزر رہا ہے، گزرتا جائے گا، سال ہوگیا وہ منصور اختر کو ہی کھیلائے گا اور اس کے اندر وہ خوبیاں ڈھونڈے گا جو کسی اور کو نظر نہیں آ رہیں۔ کرکٹ کا منصور اختر تو خاموشی سے غروب ہوگیا، سیاسی منصور اختر ناکام ہوا تو اپنے محسن کو بھی غروب کر جائے گا۔

Categories
اہم خبریں

جو کام ثاقب نثار نہ کر سکے وہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کر دکھایا ،3 ہفتوں کے اندر بڑا کام کرنے کا اعلان، پورا ملک خوشی سے نہال ہوگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک آن لائن) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹارئرمنٹ کے بعد عہدہ سنمبھالنے والے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا شمار ملک کے قابل ترین ججز میں ہوتا ہے اور اب چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ آئندہ دو تین ہفتوں میں


لاہور رجسٹری کی کرمنل اپیلیں ختم ہو جائیں گی، لاہور رجسٹری سے وابستہ 12کروڑ کی آبادی میں کرمنل اپیلوں کاخاتمہ بڑی کامیابی ہے۔ جمعرات کوایک فوجداری اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم لاہور رجسٹری کی وہ اپیلیں سن رہے ہیں جو ملتوی ہونے کی وجہ سے رہ گئی تھیں اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ دوتین ہفتوں میں لاہور رجسٹری کی کرمنل اپیلیں ختم ہو جائیں گی جوایک بڑی کامیابی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ ان کی عدالت میں کیسز کارروائی کیلئے نہیں فیصلے کیلئے آتے ہیں، قرآن پاک میں ہے اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، بہتر انصاف نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ کچھ سال پہلے سپریم کورٹ میں 13 سے 14 ہزار اپیلیں زیر التوا تھیں لیکن اب سپریم کورٹ میں صرف 140 کرمنل اپیلیں زیر التوا ہیں ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدمات کی کاز لسٹ لوگوں کی امانت سمجھتا ہوں، میری عدالت میں کیسز کارروائی کیلئے نہیں فیصلے کیلئے آتے ہیں، عدالتی کیریئر میں کئی بار مشکل وقت آیالیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے توسط سے فیصلے کراتا ہے، انصاف کی فراہمی ججز پر بھاری ذمہ داری ہے ، جج کی حیثیت سے خود کو لالچ اور خوف سے آزاد کرنا ہوگا، جج کاکام دلائل سن کرفیصلہ کرناہے،کیس ملتوی کرنا نہیں۔ انہوں نے کہا قرآن پاک میں ہے کہ جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو،انصاف کرنے میں جو سکون ملتا ہے اس کا نعم البدل نہیں ہے۔ قرآن پاک میں ہے اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، بہتر انصاف نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہو اسے کوئی پریشانی نہیں آسکتی، اللہ تعالیٰ جن سے محبت کرتاہے ان کو خوف ہوتا ہے نہ کوئی غم۔

Categories
اہم خبریں

اور لو پاکستان سے پنگے: پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی، پاکستان کو8 ارب اوربھارت کوکتنا نقصان ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات

پشاور (ویب ڈیسک آن لائن) وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ فضائی حدود کی بندش سے بھارتی نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی، اڑھائی3 ماہ فضائی حدود بند رکھنے سے پاکستان کا نقصان کم اور بھارت کا کہیں زیادہ ہوا، فضائی حدود بند ہونے پر پاکستان کو 8 ارب اور


بھارت کو 28ارب کا نقصان ہوا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کی فضائی حدود بند کیے جانے سے بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اڑھائی3 ماہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کا نقصان کم اوربھارت کا کہیں زیادہ ہوا۔ پاکستان کو فضائی حدود بند ہونے پر 8ارب اوربھارت کو 28ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پاکستان کی فضائی حدود 2 فروری کے واقعے پر بند تھی جو15، 16جولائی کی رات کھولی گئی۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے ایکشن کے بعد قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ہم نے بھارتی صدر کوپاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود اپنے صدر کیلئے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی۔ بھارتی اتھارٹیزکومطلع کر دیا 8 ستمبر کو پاکستانی فضائی حدود سے بھارتی صدر نہیں گزرسکتے۔ بھارتی صدرکے طیار ے پرپاکستان کی فضائی حدود سے آنے جانے پرپابندی ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور کشمیریوں پرمظالم جاری رکھے تو دیگر آپشنز پربھی غور کررہے ہیں۔کشمیرمیں آج کرفیوکا35 واں دن ہے۔ کشمیری علاج معالجے سے بھی محروم ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کر نے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ ہفتہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت کے صدر نے پاکستان سے ائر سپیس استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی ہندوستان کے رویے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم انہیں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی صدر نے آئس لینڈ روانہ ہونا تھا۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: پاکستان کا معاشی بحران ختم شد ۔۔۔ ملکی تاریخ کی ایک بڑی سرمایہ کاری کے اعلان نے بنی گالہ میں جشن کا سماں بنا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کسی بھی ملکی معیشت کے لئے سرمایہ کاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس میں سرمایہ کاری ہو گی اُس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اور جس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اُس ملک پر تمام ممالک کا اعتبار قائم ہو گا اب پاکستان کے حلات بھی تیزی سے بدلنے شروع ہو گئے ہیں کیونکہ


اب پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ ہمارا ملک سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن ہے، پاکستان اور چین کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کا دوسرا مرحلہ اگلے ماہ حتمی شکل اختیار کر لے گاجس کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار اور سی فوڈ سمیت 90 فیصد اشیا پر صفر ڈیوٹی عائد ہو گی جس سے تجارت متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔ چین کے سفیر یاؤ جنگ نے یہاں ویمن چیمبر کی بانی صدرثمینہ فاضل کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایف ٹی اے ٹوکے آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر تک کا اضافہ ہو گا۔ پاکستان کے تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر جلد عمل درآمد ہو گا۔ انہوں نے باہمی تجارت میں اضافہ کے لئے ویمن چیمبر کی سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی تاجر خواتین کو قریب لانے کی کوشش کریں گے اور چینی تاجر خواتین کو نومبر میں منعقد ہونے والے پانچویں اسلام آباد ایکسپو میں مدعو کریں گے جبکہ پاکستانی تاجر خواتین کو چین میں منعقد ہونے والے مختلف نمائشوں میں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی دستکاریوں کی بڑی مانگ ہے جبکہ بلوچستان کی

دستکاریوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں پر ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کومشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے چین کے سفیر یاہو جنگ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امکورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں کو ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین کی توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں چینی امداد پر شکریہ گزر ہیں۔مشیر خزانہ نے کہاکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گوادر بندرگاہ اور گوادر فری زون کے منصوبوں کو تیز رفتار کرنے کیلئے متعدد فیصلے کیے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ نے ایف اے ٹی ایف شرائط پر عملدر آمد کیلئے چین کی حکومت کی تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

Categories
آرٹیکلز

پڑھئے ایک شاندار تحریر جو آپ کا خون گرما دے گی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) خصوصی انتخاب… شیر سلطان ملک ، 6 ستمبر ہم نے دفاع وطن میں جان سے گزر جانے والے سپوتوں کو یاد کیا۔ تو آئیے وطن کے ان بیٹوں کو بھی یاد کر لیں جو غیر مسلم تھے مگر مادر وطن پر قربان ہو گئے۔ پانڈو کے محاذ پر ہونے والی لڑائی کا تذکرہ تو ہم نے سن رکھا ہے اس پر

نامور کالم نگار آصف محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کل پترا کی پہاڑی فتح کرتے ہوئے کیپٹن سرور شہید ہوئے تھے اور انہیں پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر ملا تھا۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے اس پہاڑی پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز کسے حاصل ہوا تھا؟ لانس نائیک یعقوب مسیح کو۔ گولیوں سے ان کا وجود چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس نے گھائل وجود کے ساتھ پانڈو ٹاپ پر سبز ہلالی پرچم لہرایا او رپھر اس پرچم کے سائے میں جان قربان کر دی۔یہ لانس نائیک یعقوب مسیح بھی ہمارے ہیرو ہیں۔ سکواڈرن لیڈر پیٹر چشتی 65ء کی جنگ میں شریک رہے ۔ جب 71 ء کی جنگ شروع ہوئی تو پیٹر چشتی ڈیپوٹیشن پر پی آئی اے میں کام کر رہے تھے۔چھوڑ کر واپس آ گئے۔ کراچی پر دشمن کے حملے کا خطرہ تھا۔ اسے روکنا ضروری تھا۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور نذیر لطیف بھی مسیحی تھے۔ ( انہیں 65 کی جنگ میں تمغہ جرات عطا کیا گیا اور 71 کی جنگ میں انہیں ستاہ جرات سے نوازا گیا)۔انہوں نے کہا دشمن کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جام نگر ایئر پورٹ کو تباہ کر دیا جائے لیکن یہ مارو اور مر جائو مشن ہو گا اور واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کون جائے گا؟ پیٹر چشتی نے کہا اس دن کا تو

انتظار تھا، میں جائوں گا۔اسی مشن کے دوران پیٹر چشتی وطن پر قربان ہو گئے۔ ونگ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ 65 کی جنگ میں فلائٹ لیفٹیننٹ کے طور پر کراچی میں تعینات تھے۔دشمن نے کراچی پر حملہ کیا تو انہوں نے بھارت کے دو جہاز مار گرائے۔انہیں شہریوں کی جانب سے ’ کراچی کے محافظ ‘ کا خطاب کیا گیا۔انہیں دو مرتبہ ستارہ جرات عطا کیا گیا۔اتفاق دیکھیے 1965ء کی جنگ میں جس مشن پر سکوڈرن لیڈر پیٹر چشتی قربان ہوئے 1971ء میں پھر وہی مشن درپیش تھا۔ جام نگر کے ایئر پورٹ پر حملہ کرنا تھا اور جس نے جانا تھا یہ سوچ کر جانا تھا کہ مشن سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ۔ اس دفعہ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ نے مادر وطن کے لیے لبیک کہا اور خود کو والنٹئر کیا حالانکہ وہ ایک ہی دن پہلے اردن سے لوٹے تھے۔ کامیاب حملے کے بعد واپسی پر بھارت کے مگ طیاروں نے ان پر حملہ کر دیا، ان پر میزائل فائر ہوئے۔ایک میزائل جہاز کو آ لگا۔ پاکستان کا ایک اور بیٹا پاکستان پر قربان ہو گیا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف عربوں کی جنگ میں بھی حصہ لیا اور اردن کے شاہ حسین ان کے بہت معترف تھے۔شاہ حسین نے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ کمانڈر مڈل کوٹ کے جسد خاکی کو تو

آپ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کریں گے لیکن ہماری درخواست ہے کمانڈر کے سر کے نیچے اردن کا قومی پرچم بھی رکھ دیجیے۔ یہ ایک عظیم کمانڈر کو ہمارا خراج عقیدت ہو گا ۔لیکن شاہ حسین کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔سکواڈرن لیڈرر پیٹر چشتی کی طرح کمانڈر مارون لیزلے کا جسد خاکی بھی نہ مل سکا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ دانیال، مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے تو دانیال نے خود کو ’ والنٹیئر ‘ کیا اور مشرقی پاکستان پہنچ گئے۔13 دسمبر کی صبح ایک مشن سے واپس لوٹ کر ناشتہ کر رہے تھے کہ خبر ملی 31 پنجاب کی پلٹون پر حملہ ہو گیا ہے۔ناشتہ بیچ میں چھوڑ کر دشمن کے گھیرے میں آئے ساتھیوں کو بچانے نکلے اور سینہ چھلنی ہو گیا۔ ہسپتال پہنچے، آپریشن ہوا،سینے سے گولیاں نکالی گئیں ، دانیال نے ڈاکٹر سے کہا یہ گولیاں نہیں یہ سووینئر ہے ، یہ میری ماں کو پہنچا دینا اور خود مادر وطن پر قربان ہو گئے۔کیپٹن میخائل ولسن 1971ئمیں چھمب سیکٹر میں تعینات تھے۔زخمی ہوئے اور جان قربان کر دی۔روایت ہے کہ مادر وطن پر قربان ہوتے وقت بھی وہ اپنے لیے نہیں اپنے وطن کی سلامتی کے لیے پریشان تھے۔ وطن پر قربان ہونے والے ان ہیروز کے ساتھ ساتھ کچھ اور نام بھی ہیں جن کی پاکستان کے لیے

ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ سیسل چودھری ہیں جنہیں ستارہ جرات ، تمغہ جرات اور صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا گیا ، میجر جنرل ایرک جی ہال جو وائس چیف آف ایئر سٹاف رہے ۔65 کی جنگ میں ایک موقع وہ بھی آیا جب پاکستان کے پاس جنگی طیارے کم پڑ گئے۔ جنرل ایرک نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا کہ سب حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا ہم سی ون تھرٹی کو بمبار طیارے کے طور پر استعمال کریں گے۔منصوبہ ناقابل عمل تھا کیونکہ سی ون تھرٹی مسافر بردار طیارہ تھا۔ ایرک جی ہال نے منصوبے کو اس شان سے قابل عمل بنایا کہ خود سی ون تھرٹی اڑایا اور جا کر بم پھینک آئے۔انہیں ہلال جرات ، ستارہ جرات اور ہلال امتیاز عطا کیا گیا ۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد پینتالیس کے قریب پولینڈ کے افسران پاکستانی ایئر فورس کی تربیت کے لیے منگوائے گئے۔ ان میں سے ایک ونگ کمانڈر ولا دیسلاو جوزف تورووچ یہیں رک گئے اور پاکستان کے شہری بن گئے۔ ان کی گراں قدر خدمات کے لیے الگ کالم چاہیے۔انہیںستاہ پاکستان ، تمغہ پاکستان ، ستارہ خدمت، ستارہ قائد اعظم ، ستارہ امتیاز، عبد السلام ایوارڈ ان ایرو ناٹیکل انجینئرنگ اور سپیس فزکس میں آئی ٹی سی پی ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کی قربانیوں اور

خدمات کا تذکرہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ یہاں بسنے والے ہر مذہب کے ماننے والے مادر وطن پر قربان ہوئے ہیں۔یہ سب ہمارے ہیرو ہیں۔لیکن ہم انہیں بھلاتے جا رہے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی یادداشت سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔ہمیں سوچنا ہو گا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے نصاب اور ہمارے قومی بیانیے میں نصاب میں پیٹر چشتی اور کمانڈر ویزلے مڈل کوٹ جیسے سرفروشوں کا تذکرہ ضرور ہونا چاہیے۔ جو پاکستان کے لیے اپنی جان پر کھیل گئے ، مطالعہ پاکستان ان کے ذکر کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتا ہے

Categories
آرٹیکلز

بھارت کے ساتھ تجارت ، فضائی حدود ، بس سروس، سفارتی تعلقات سب کچھ ختم لیکن عمران خان کرتار پور بارڈر دراصل کیوں کھولنا چاہتے ہیں؟؟؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خاں نہ صرف ایک منجھے ہوئے کھلاڑی تھے بلکہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان بھی ہیں مسئلہ کشمیر پرکشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے حکام نے بدھ کے روز پاکستان میں سکھ برادری کی مذہبی مقام کرتارپور صاحب کو کھولنے کے لیے اٹاری واہگہ بارڈر پر ایک رسمی ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے

کرتارپور صاحب کے درشن کرنے والوں کے لیے چند شرائط بھی رکھی ہیں۔ ان شرائط میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے زائرین کےلیے 15 امریکی ڈالر کے لگ بھگ سروس فیس کی ادائیگی جبکہ کرتارپور صاحب میں زائرین کے زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت کے حوالے سے ڈیڈ لائن شامل ہےتاہم انڈین حکام نے ان شرائط ہر اعتراضات اٹھائے ہیں۔انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلی کیپٹن ارمیندر سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک پیغام میں ان شرائط کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سکھوں کے مذہبی پیشوا گرو نانک دیو جی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ کرتارپور راہداری کی تعمیر میں رکاوٹیں حائل کرے گا۔انڈین حکام کی جانب سے بتائی گئی تفصیلات کے مطابق تمام زائرین جو کرتارپور صاحب درشن کے لیے جائیں گے ان کی وہاں زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت صبح سے لے کر شام تک ہو گی۔تاہم انڈین حکام نے اس شرط کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرتارپور معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔انڈین اور پاکستانی حکام کے درمیان حالیہ ملاقات میں اس حوالے سے اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔کیا یہ اعتراضات

مسئلے کا باعث بنیں گے؟انڈین حکام کی جانب سے پاکستانی شرائط پر اعتراضات کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ آیا یہ اس حوالے سے ہونے والی دو طرفہ بات چیت کو متاثر کریں گے۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے لیے کافی اہم ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ان اعتراضات کے بعد بھی اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ بات چیت تعطل کا شکار ہو جائے گی۔ اگر آپ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو پاکستان بھی اس جاری بات چیت سے اپنی پیٹھ نہیں موڑے گا۔اور انڈیا کی کوشش بھی یہ ہو گی ایسی کوئی صورتحال جنم نہ لے۔دونوں ممالک میں حکام کے لیے پنجاب میں بسنے والے عوام اور ان کے جذبات بہت اہم ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے ان کے ملک میں بسنے والی سکھ برادری بہت اہمیت کی حامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے مگر یہ مسئلہ اس کشیدہ صورتحال کی نظر نہیں ہو گا۔ کیونکہ دونوں ممالک کی حکومتیں اپنی اپنی سکھ برادری کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔عمران خان کے لیے پنجابی عوام اتنی اہم کیوں ہیں؟پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے

یہ مسئلہ اس لیے بھی کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ پاکستانی معیشت اس وقت انتہائی گراوٹ کا شکار ہے۔اور ایسی معاشی صورتحال میں عمران کی حکومت کی سوچ یہ ہے کہ کرتارپور صاحب کو زائرین کے لیے کھولنے کے باعث امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بسنے والی سکھ کمیونٹی کے افراد کی آمد و رفت یہاں شروع ہو جائے گی۔پاکستانی حکومت یہ بھی سوچتی ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو کرتارپور صاحب کو ایک بین الاقوامی سکھ ٹورازم کے مقام میں بدلا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کرتارپور صاحب کی انڈیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت ہے۔ اور جب یہ مسئلہ حل ہو گا تو لازماً وہ یہاں آنا پسند کریں گے۔اسی صورتحال میں حکومتِ پاکستان کے لیے وہ مواقع پیدا ہوں گے کہ وہ کرتارپور صاحب کو اپنی معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے گی۔ پاکستان میں حکام یہ بھی چاہیں گے کہ انڈیا کی سکھ برادری میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو تاکہ پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی مستقبل میں اس سے مستفید ہو سکے۔ہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث کرتارپور صاحب پاکستان کے لیے بھی

کافی اہم ہے۔وزیر اعظم مودی کے لیے پنجابی کیوں اہم ہیں؟انڈین حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے اختتام کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کافی تلخی پیدا ہوئی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تلخی کے اس ماحول میں انڈین حکومت پاکستان کے ساتھ کرتارپور صاحب کے مسئلے پر بات چیت کیوں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں انڈین پنجاب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔انڈین پنجاب نے ماضی میں شدت پسندی کے ایک دور کا سامنا کیا ہے جس میں کافی خون ریزی ہوئی اور ماحول کشیدہ رہا۔پاکستان کی طرف سے انڈین پنجاب میں شدت پسندی کو سپورٹ کیا گیا تھا جبکہ پنجاب میں مسائل کو حل کرنے میں انڈین گورنمنٹ کو کافی مشکلات پیش آئیں تھیں۔ایسی صورتحال میں انڈیا یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا مسئلہ سر اٹھائے جس کے باعث پاکستان سے دوبارہ انڈین پنجاب میں بسنے والوں کو ورغلانے کی ایسی کوئی کوشش کی جا سکے۔خاص کر ایسے موقع پر جب پہلے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات بگڑ رہے ہیں انڈین حکام یہ نہیں چاہیں گے کہ ریاست پنجاب میں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔آئندہ چند روز میں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔انڈین حکومت کا تاثر ہے کہ اس وقت انڈیا میں بسنے والی مذہبی گروپوں میں صرف سکھ وہ کمیونٹی ہے جو انڈیا کی حکومت کو مکمل طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔انڈین حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ کرتارپور کے معاملے پر ایسی صورتحال جنم لے کہ سکھ عوام ناراض ہوں۔کیونکہ اگر انڈیا میں بسنے والی تمام مذہبی گروہ حکومت کے خلاف ہوں گے تو یہ انڈین حکومت کے تشخص کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔کرتارپور صاحب کا مسئلہ کب حل ہو گا؟کرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہےامید ہے کہ یہ مسائل جلد ہی حل ہو جائیں گے۔کیونکہ انڈیا اور پاکستان میں کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کو روکنے کا الزام اس کے سر جائے کیونکہ دونوں ممالک کے لیے یہ مسئلہ انتہائی اہم ہے۔اور ایسی صورتحال میں اس مسئلے کے جلد حل ہونے کی امید کافی زیادہ ہے۔جو کہ بہت خش آئند بات ہے.

Categories
آرٹیکلز

اکتوبر میں حملہ ہو گا جس کے بعد پاک فوج کشمیر آزاد کروا کر بھارت کے کس علاقے تک پہنچ جائے گی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارت کی جانب سے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اس کے ردعمل میں پاکستان نے بھارت کے لئے فضائی حدود کی بندش کا اعلان کر دیا ہے اس پر

پاکستان کے معروف کالم نگار و تجزیہ نگار مظہر برلاس کا اپنے حالیہ کالم ” سوا سال ” میں اپنے ایک دوست بودی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں نے ان سے پوچھا کہ شاہ جی مجھے بتائیں مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔جس پر انہوں نے بتایا کہ دنیا کا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے برس اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔حالیہ دنوں میں نریندر مودی کو جو ایوارڈ دئیے گئے وہ بھی اسرائیلوں اور امریکیوں کے کہنے پر دئیے گئے۔تم صحافی بنے پھرتے ہو تمہیں نہیں معلوم کہ اسرائیل بھارت میں ایک ائیر بیس قائم کر رہا ہے۔اس سال کے جو چار ماہ باقی ہیں ان کا قصہ سن لیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مودی کی خوب درگت بنے گی۔22 ستمبر کومودی جب این آر جی سٹیڈیم ہیوسٹن میں خطاب کرے گا تو اسٹیڈیم کے باہر 20 سے 25 ہزار لوگ مودی کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔جن میں پاکستانیوں ،کشمیریوں،بدھسٹ،عیسائیوں اور سکھوں کی کثیر تعداد شریک ہو گی۔اور وہاں پر “کشمیر بنے گا پاکستان” کے علاوہ “آزاد ناگا لینڈ ” اور خالصتان کے نعرے بھی بلند ہوں گے۔مودی امریکہ سے مایوسیوں کے سائے میں لوٹے گا،اکتوبر کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں کشمیر میں پلوامہ کے طرز پر ایک اور

ڈرامہ رچایا جائے گا۔اس ڈرامے کی بنیاد پر بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ کر دے گی اور ساتھ ہی آزاد کشمیر پر حملہ کر دے گی۔یہ حملہ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے وسط تک ہو سکتا ہے۔پاک فوج اس حملے کا بھرپور جواب دے گی۔کشمیری بھی اپنا حق ادا کریں گے۔جس کے نتیجے میں بھارتیافواج کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا۔بھارت میں متشدد سوچ میں اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے وہاں کی سیاسی قیادت بالخصوص نریندر مودی کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔آج کل بھارتی ہندو مودی کو باپو کہہ کر پکار رہے ہیں۔یہ لوگ گاندھی کو بھی باپو کہتے تھے۔اور پھر مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے بھی آر ایس ایس کے لوگ تھے۔مظہر برلاس مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اگلے سال یعنی کہ 2020ء میں بھارت پانچ ملکوں میں تقسیم ہو گا۔دوسری جانب چین نے افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا، چین کی جانب سے افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے مکمل حمایت کا اعلان، چینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ قیام امن سے افغانستان بھی گوادر بندر گاہ سے فوائد حاصل کر سکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان،چین اورافغانستان کے سہ ملکی مذاکرات ہوئے۔