Categories
اہم خبریں

کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی غیر معمولی نقل وحرکت, محدود جنگ کا آغاز ہوگیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاک بھارت افواج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں لائن آف کنٹرول پر غیر علانیہ محدود جنگ کا آغاز ہو چکا ہے،پاک فوج اور دیگر سیکورٹی ادارے مکمل جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔قومی اخبار کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی 15ویں کور کے مخصوص یونٹس اور

ویسٹرن ائیر کمانڈ کی فارمیشنز میں غیر معمولی نقل وحرکت سپاٹ کی گئی ہے جو لائن آف کنٹرول پر کسی بڑی شرارت کا عندیہ دے رہی ہے۔افواجِ پاکستان اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھارت کی جانب سے کسی بھی کاروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں۔لائن آف کنٹرول پر غیر علانیہ محدود جنگ کا آغاز ہو چکا ہے۔اعلیٰ حکومتی زرائع نے ٹاپ سیکورٹی آفیشلز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج کی ناردرن کمانڈ کے تحت آپریٹ کرنے والی 15 ویں کور کے ایڈوانس یونٹس کی موومنٹ لائن آف کنٹرول کے قریب سپاٹ کی گئی ہے۔ جب کہ بھارتی ائیرفورس کی ویسٹرن کمانڈ کی فارمیشنز میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت سپاٹ کی گئی ہے۔ویسٹرن ائیر کمانڈ کے تحت آپریٹ کرنے والی ائیر بیسز پٹھانکوٹ،ادھم پور، آوانتی پور، لی اور سرینگر میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت سپاٹ کی گئی جس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت کنٹرول لائن پر کسی بڑی شررات کی پلاننگ کر رہا ہے۔عسکری انٹیلی جنس ادارے لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر بھارت کی تمام موومنٹس پر نظر رکھے ہوئے ہیں جب کہ فیلڈ انٹیلی جنس سورسز سے بھی انفارمیشن موصول ہو رہی ہے۔بھار ت 27فروری کے ایڈونچر میں پاکستان کی تیاری اور ایکشن ایبل ان ٹیلی جنس کا مظاہرہ دیکھ چکا ہے

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: سندھ اسمبلی کی موجودہ نمبر گیم ۔۔۔۔ جلد پاکستانی سیاست میں کیا بھونچال آنے والا ہے ؟ سہیل وڑائچ کی دھماکہ خیز پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) سیاست میں حکومتیں گرانے اور بنانے میںوقتی حکمتیں توہوتی ہی ہیں مگر اس کے اثرات دہائیوں تک اپنا اثر رکھتے ہیں ۔پاکستان کی 72سالہ تاریخ میںاب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں گرانے کیلئے آئین بنانے والے اس سے اخلاقی روگردانی کرتے نظر آتے ہیں۔

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گورنر جنرل کے اختیارات ہوں یا صدراور آرمی چیف کے ،ملک کے وسیع ترمفاد میںہرکوئی دوسرے کو گھر بھیجتارہا۔صوبہ پنجاب کی طرح سندھ بھی اسی طرح کی سازشوں کا مرکز رہاہے۔1990ء میں ہونے والی جام صادق کی سیاسی جمع تفریق ہویا مشرف دور میں ارباب غلام رحیم کی سرپرستی میں اکثریتی جماعت پیپلزپارٹی کو جوڑ توڑ کیساتھ سیاسی ’’اکثریت‘‘سے حکومت بنانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔افسوس کی بات یہ ہے کہ سیاستدان ہی اپنے ذاتی مفادات کو فوقیت دیتے ہوئے نہ صرف غیر جمہوری عناصر کے ہاتھوں کھیلتے رہے بلکہ اگلے انتخابات میں ایک بار پھر ذاتی مفادات کیلئے ’’لوٹ کے بدوگھر کو آئے‘‘ کا مصداق بنے۔2018ء کے عام انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی نے سندھ میں اکثریت حاصل کی اور حکومت سازی بھی کی۔ایک سال کے دوران مرکز کے کچھ وزرا کے بیانات سے یہ عیاں ہوا کہ سندھ میں دوبارہ سیاسی دائو پیچ کھیلنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن کوئی ساز گار حالات میسر نہیں آسکے۔خبروں کے مطابق سندھ میں سندھ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے وہ سازگار حالات پیداہوچکے ہیں جس کی گزشتہ ایک سال میں پیش گوئیاں کی جارہی تھیں۔تبصروں اور تجزیوں کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی نیب کی جانب سے گرفتاری متوقع ہے اور اس کے بعد سیاسی منظر نامہ میں پیپلزپارٹی کی حکومت کو ختم بھی کیاجاسکتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ممکنات میں سے ہے تو سندھ کی سیاسی شطرنج میں کون سے مہرے اپنی جگہ بدلیں گے اور کیا ان ہائوس تبدیلی کی

حکمت عملی کامیاب ہوسکے گی؟اس تمام صورتحال کو سمجھنے کیلئے موجودہ سندھ اسمبلی کی پارٹی پوزیشن کو جاننا ضروری ہے۔سندھ اسمبلی میں اس وقت حکومتی جماعت پیپلزپارٹی 168میں سے 99نشستوں کیساتھ سرفہرست ہے۔اس کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف 30اراکین صوبائی اسمبلی کیساتھ دوسرے ،متحدہ قومی موومنٹ 21 نشستوں کیساتھ تیسرے جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس 14ایم پی ایز کیساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ تحریک لبیک پاکستان تین اور ایم ایم اے کا ایک ایم پی اے بھی اسمبلی میں موجودہ ہے۔پیپلزپارٹی کی 99نشستیں نکال دی جائیں تو باقی 69نشستیں رہ جاتی ہیں اور اگر انہیں اپوزیشن اتحاد بھی سمجھ لیاجائے تو کم از کم 16ایم پی ایز کو پارٹی سے ہٹ کر اپوزیشن کے نامزد وزیر اعلیٰ کو ووٹ دینا پڑے گا۔اگر وزیر اعلیٰ سندھ کو گھر بھیجاجائے تو پیپلزپارٹی کو اپنے کم از کم 16ایم پی ایز کی ناراضی ختم کرناہوگی۔ماضی میں کسی بھی اکثریتی جماعت کو حکومت سے نکالنے کیلئے فارورڈ بلاک تشکیل دیکر مطلوبہ نتائج حاصل کر لئے جاتے تھے لیکن اب آئین میں اس کی کوئی اجازت نہیں ۔ سیاسی جماعت میں فارورڈ بلاک بنانے پر آئین ہدایت دیتاہے کہ کسی پارلیمانی جماعت میں یہ بلاک نہیں بن سکے گا اگر کوئی پارلیمنٹیرین بلاک بنا ئے گاتووہ اپنی نشستیں کھو بیٹھے گا۔آئین میں واضح کر دیا گیا ہے کہ فارورڈ بلاک بنانے اور پارٹی قیادت کے فیصلوں سے انحراف ، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں پارٹی سربراہ کے فیصلے کے مطابق ووٹ نہ دینے یا وفاداری تبدیل کرنے کی صورت میں متعلقہ پارلیمینٹرین اپنی نشست سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کا انتخاب خفیہ رائے شماری نہیں بلکہ اوپن ووٹنگ کے ذریعے ہوتا ہے اور پارٹی سربراہ کی ہدایت سے انحراف کرنے والارکن سامنے آجائے تواسے اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کیلئے آئینی کاروائی عمل میں لائی جا تی ہے۔اس سے روگردانی پر ان کے خلاف الیکشن کمیشن کو ریفرنس بھجوایا جا سکتا ہے ،اسی طرح وفاداری تبدیل کرنے اور فارورڈ بلاک بنانے والوں کو آئینی کاروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔پارٹی سربراہ کو آئین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے کہ پارٹی فیصلوں کی خلاف ورزی کرنے والے اراکین اسمبلی کے خلاف ریفرنسز بھجوا سکتے ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں خیبرپختونخوا میں فارورڈ بلاک بناکر وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کو گھر بھیجنے کی تیاری کی جارہی تھی مگر اراکین اسمبلی کے خوف یا سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے ایسا کواقدام عمل میں نہیں لایاگیا۔موجودہ پنجاب گورنمنٹ میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے کچھ ایم پی ایز بھی فارورڈ بلاک بنانے اورپارٹی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہوئے تحریک انصاف کے منتخب وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار سے ملاقات کرچکے ہیں۔ تاریخ ایسے گروپ اور اراکین سے بھری پڑئی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے آئین اور جمہوری اداروں سے کھلواڑ کرتے ہیں جس سے سول اداروں کو ہزیمت کا سامناکرنا پڑتاہے۔دوسری جانب سوال یہ پیداہوتاہے کہ سیاسی جماعتیں ایسی کالی بھیڑوں کو اپنی سیاسی جماعتوں میں دوبارہ جگہ کیوں دیتے ہیں ؟۔نوٹ:مورخہ5اگست 2019ء کوروزنامہ جنگ میں چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے حوالے سے اشاعت خاص ’’ صادق سنجرانی کیسے جیتے ؟ شائع ہوا۔ اس حوالے سے مواد سینیٹ کی

آفیشل ویب سائٹ سے لیاگیاتھا ،جس پرسینیٹر پروفیسر ساجد میر نے اعتراض اٹھایا تھا کہ ان کی سیاسی وابستگی مسلم لیگ ق کی بجائے ن لیگ سے تھی ۔لہٰذا اس بابت حقائق کی درستگی کیلئے یہ تصیح شائع کی گئی ہے۔امکان 1:وزیر اعلیٰ سندھ مراد شاہ کی ممکنہ گرفتاری کے پیش نظر سندھ کے سیاسی منظر نامے میں تبدیلی کا امکان ہے۔کیایہ تبدیلی سندھ میں پیپلزپارٹی کیلئے بڑے نقصان کا پیش خیمہ تو نہیں ثابت ہوگی؟امکان یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کا ایک الگ گروپ بننے جا رہا ہے جو سندھ کی موجودہ حکومت کو ختم کرکے نئی حکومت بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔یہ افواہیں اس وقت منظر عام پر آئی ہیں جب وزیر اعلیٰ سندھ کی ممکنہ گرفتاری کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی میں سندھ کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے چند اراکین صوبائی اسمبلی کی جانب سے نہ صرف فاوروڈ بلاک بنانے کی کوششیں کی جارہیں ہیں بلکہ دیگر ارکان کو ساتھ ملانے کیلئے روابط بھی کئے جارہے ہیں۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے یہ اراکین مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور جیسے ہی وزیراعلیٰ گرفتار ہونگے یہ گروپ پیپلزپارٹی چھوڑ کر الگ ہوجائے گا۔اراکین اسمبلی میں نوابشاہ (شہید بینظیر آباد) اور تھرپار کر اور مبینہ طورپر مخدوم فیملی بھی اس گروپ میں پیش پیش ہوسکتی ہے۔دوسری جانب پیپلزپارٹی کے ایم پی ایز میں سے بیشتر پر ایف آئی اے اور نیب کیسز بھی ہیں جو وفاداری تبدیل کرنے کیلئے پریشر گروپ کا کام کرسکتے ہیں۔

گردش کرتی ہوئی خبروں کے مطابق سندھ میں 25سے زائدارکان پرمشتمل ایک فارورڈ بلاک تیار ہوگیا ہے جو کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے ۔سندھ سے آنے والی خبروں کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی گرفتاری کے عمل میں آنے کی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری کو الیکشن لڑوانے کے بعدوزیر اعلیٰ سندھ یا اپوزیشن لیڈر بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔امکان 2:دوسری ممکنہ صورتحال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ باغی یا ناراض ہونے والے کو ایک الگ سیاسی جماعت کے طور پر سامنے لایاجاسکتاہے۔گردش کرتی ہوئی خبروں کے مطابق بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی طرز پر سندھ میں بھی ایک نئی جماعت سندھ عوامی پارٹی بنانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔اس نئی بننے والی جماعت کے لئے پیپلزپارٹی کے ناراض اور نظر انداز ہونے والے اراکین اسمبلی کو اس نئی جماعت میں شامل کرنے کے لئے بااثر سیاسی شخصیات متحرک ہوتی نظر آرہی ہیں۔یہ بھی خبر ہے کہ لاڑکانہ اور سندھ بلوچستان کے سرحدی اضلاع کے سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے اہم سیاسی خاندانوں کو اس سلسلے میں اہم ٹاسک سونپے گئے ہیں اور اس حوالے سے سندھ میں کم از کم 16اراکین اسمبلی سے نئی جماعت کی تشکیل کے حوالے سے بات چیت کا عمل بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔یہ بھی امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے خلاف ہونے والی بغاوت کے کامیاب ہونے کی صورت میں سندھ ،بلوچستان کے اہم سیاسی خاندانوں کے ممبران صوبائی اسمبلی میں سے کسی کو مستقبل میں وزیر اعلیٰ سندھ بنانے کی بھی پیشکش کی جاسکتی ہے۔

امکان 3:مندرجہ بالا دونوں امکانات کی ناکامی کی صورت میں وفاق اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں ۔ بنیادی طورپر گورنر راج کے دو آئینی طریقہ کار ہیں جس کے تحت صوبے کا انتظام گورنر چلاتا ہے۔آئین کے آرٹیکل234 کے تحت متعلقہ صوبہ کے گورنر کی رپورٹ پر اگر صدر مملکت کو یقین ہو جائے کہ صوبہ کی حکومت آئین اور قانون کے مطابق معاملات نہیں چلا سکتی تو وہ گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ گورنر راج نافذ کرنے کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ پارلیمینٹ کے دونوں ایوان اپنے الگ الگ اجلاسوں میں کسی صوبہ میں گورنر راج کے نفاذ کے لئے قراردادیں منظور کر لیں تو صدر مملکت ان پر عملدرآمد کرتے ہوئے گورنر راج کے نفاذ کا صدارتی فرمان جاری کرتے ہیں۔اگر آئینی طریقہ کار کے تحت گورنر راج لگایاجائے تو دونوں ملک بھر کا سیاسی منظر نامہ بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔گزشتہ سال کے آخر میں سندھ میں پیپلزپارٹی سے فاروڈ بلاک یا نئی سیاسی جماعت کی باتیں عروج پر تھیں ۔اس وقت سند ھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی 99اراکین کے ساتھ اقتدارکی کرسی پر براجمان ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت گر انے کے لئے 16 ایم پی ایز کی حمایت ضروری ہو گی۔سندھ میں پیپلزپارٹی کے اثرور سوخ کو توڑنے کیلئے مختلف ادوار میں مختلف اتحاد اور فاروڈ بلاگز بنتے رہے ہیں۔ 1990ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو سندھ میں صوبائی رابطوں کے مشیر جام صادق نے پیپلزپارٹی کے خلاف ا ندرون خانہ بغاوت کی۔اس طرح پیپلزپارٹی کی اکثریت ہونے کے باوجود جام صادق نے

متحدہ قومی موومنٹ اور آزاد اراکین کے ساتھ سیاسی گٹھ جوڑ کیا اور ایک منظم حکمت عملی کے تحت سندھ کے نگران وزیر اعلیٰ بن گئے۔جام صادق کی پیپلزپارٹی کے خلاف دوسری سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کی پالیسیوں کو دیکھتے ہوئے 1990ء کے انتخابات میں پیپلزپارٹی کے خلاف حکمت عملی انتخابات سے پہلے کی گئی تھی اور اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ انتخابات کے بعد پیپلزپارٹی سندھ میں حکومت نہ بنا سکے۔ جام صادق نے مقامی جاگیر داروں،دائیں بازو کے سیاستدانوں اور ریاستی وسائل کا استعمال اور سب سے بڑھ کر متحدہ قومی موومنٹ کی مدد سے حکومت بنائی۔ اس مقصد کے حصول کیلئے پیپلزپارٹی کے اندر توڑ پھوڑ بھی کی گئی۔ اسی انتخاب میں پیپلزپارٹی کے بانی ذولفقار علی بھٹو کے کزن اور سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ممتاز بھٹو کی سربراہی میں ”سندھ نیشنل فرنٹ” کے نام سے اور ”سندھ نیشنل الائنس ” کے نام سے انتخابی اتحاد بھی بنے جو سندھ میں پیپلز پارٹی کو نقصان پہنچانے میں کامیاب نہ ہو سکے ۔پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں کھل کر سازش کرنا آسان نہیں ، یہ وہی کر سکتا ہے جو یقین کی حد تک پیپلزپارٹی کی اندورنی سیاست کو جانتا ہو۔پیپلزپارٹی کے صوبائی اقتدار پر دوسری بار شب خون آمریت کے دورمیں مارا گیا۔ 2002ء کے انتخابات میں سندھ سے پیپلزپارٹی 51 نشستوں کے ساتھ سر فہرست تھی جبکہ متحدہ قومی موومنٹ 31،مسلم لیگ ق 14،نیشنل الائنس12 اور مسلم لیگ فنکشنل 9 نشستیں لینے میں کامیاب ہوئی۔ پیپلزپارٹی نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن صوبے میں اسے اکثریت کے باوجود حکومت نہیں بنانے دی گئی۔ انتخابات کے فوراً بعد پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک بنا کر جنرل مشرف کے حامیوں کی حکومت بناڈالی۔ پیپلزپارٹی کو حکومت سے دور کرنے کے بعد پرویز مشرف نے پہلے اپنے اتحادیوں میں سے ضلع گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے علی محمد مہر کووزیر اعلیٰ کا عہدہ دیا جبکہ دوسری بار یہی نوازش جون 2004ء میں تھرپارکر کے ارباب غلام رحیم کو وزیر اعلی کا عہدہ دے کر کی گئی۔اس سازش سے حکومت تو کرلی گئی مگر 2008ء میں پیپلزپارٹی نے زیادہ اکثریت سے سندھ میں حکومت بنائی مگر فارورڈ بلاک کا کوئی مستقبل تھا،نہ ہوگا۔تیسرا بڑا پیپلزپارٹی مخالف گروپ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل بنایاگیا۔ ایک بار پھرگرینڈ ڈیموکریٹک الائنسـ‘ بنایا گیا۔ ماضی کے اتحادوں کی طرح اس انتخاب میں بھی پیپلزپارٹی نے اپنے مخالفین کو 130جنرل نشستوں میں سے صرف 11نشستیں لینے دیں۔ پیپلزپارٹی کے خلاف سندھ میں قریباً گزشتہ ہر انتخابات میں ـ’سیاسی اتحاد‘ توبنا ضرور مگر حقیقت یہی ہے کہ کسی بھی اتحاد نے عام انتخابات میں پیپلزپارٹی کو بڑانقصان نہیں پہنچاسکا۔جی ڈی اے اور مقتدر حلقوں کی جانب سے ایک بار پھر سیاسی جمع تفریق ہونے کو ہے مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی کیاہوگی۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: سی پیک منصوبے کے حوالے سے ایسی چیز چین سے پاکستان پہنچا دی گئی کہ دنیا دنگ رہ گئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک آن لائن) جہاں چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لئے خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے وہی یہ منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے دوستی کے رشتے کو مزید گہرا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اب چین پاک اقتصادی راہداری منصوبہ کے تحت


بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کے پہلے منصوبے پر چین نے1.7ارب ڈالرمالیت کے آلات پاکستان پہنچادیے ہیں۔فوشون الیکٹرک پورسلین مینوفیکچرنگ کمپنی چائنہ کی جانب سے30 ڈائریکٹ کرنٹ (ڈی سی) 660 کلوواٹ آف زنک آکسائیڈ لائٹنگ کولر پاکستان بھیجے گئے ہیں۔ منصوبے پر لاگت کا تخمینہ1.658ارب ڈالر ہے اور2021 تک مکمل کرلیا جائے گا۔پارٹی ورک کمیٹی آف شین فو کے رکن وانگ ژو کژی نے کہاہے کہ کمپنی ایک سڑک اور ایک خطے کے وژن پر کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ منصوبے کی تکمیل سے پاکستان میں بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری میں مدد ملے گی اور بجلی کے کمرشل وگھریلو صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کویقینی بنایا جاسکے گا۔دوسری خبر کے مطابق چینی وزیرخارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس میں کہا گیا کہ خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔چینی وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان مکمل ہونے کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق چینی وزیر خارجہ نے وزیراعظم، وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور چین نے مختلف فورمز پر باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا، علاقائی و عالمی تبدیلیوں سے دونوں ممالک کی شراکت داری متاثر نہیں ہوسکتی اور خطے کی بدلتی صورتحال دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات میں رکاوٹ نہیں بن سکتے جب کہ دونوں ممالک نے علاقائی اور عالمی امور پر تعاون کو مستحکم کرنے، سی پیک کے جاری منصوبوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا۔مشترکہ اعلامیہ میں سی پیک منصوبوں سے روزگار کی فراہمی، صنعتی پارکس اور زراعت کے شعبے میں تعاون، دونوں ممالک کا خطے امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں اور اسٹریٹجک اعتماد اور سدا بہار تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سی پیک منصوبہ ایک نئے فیز میں داخل ہو چکا ہے۔مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ممالک کا دوطرفہ قیادت کے دوروں اور ملاقاتوں کا تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا اور دونوں ممالک کا قیادت کے درمیان پائے جانے والے اتفاق رائے کو عملی جامہ پہنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان اور چین کو باہمی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت حاصل ہے، دونوں ممالک مستقبل میں بھی کمیونٹی کی تعمیر و ترقی میں تعاون جاری رکھیں گے۔مشترکہ اعلامیہ کے مطابق چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی مضبوطی دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کی ترجیح ہے، چین اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ خطے کے امن و استحکام کے لئے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پرامن، مستحکم، معاون اور خوشحالی جنوبی ایشیاء تمام فریقین کے مفاد میں ہے۔اعلامیہ میں چینی وفد نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک تاریخی تنازعہ ہے اور چین کشمیر کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق حل کیا جائے، خطے کے فریقین کو باہمی عزت و برابری کی بنیاد پر تنازعات کا پرامن حل نکالنے کی ضرورت ہے، مقبوضہ کشمیر پر کسی بھی یک طرفہ اقدام سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر،سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے جب کہ چین کا پاکستان کی علاقائی خودمختاری، سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ کے کیے حمایت جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا۔

Categories
اہم خبریں

عابد علی مرحوم ہمیشہ قمیض کے گلے کے اوپر ولے دو بٹن کھول کر اپنے سینے کے سیاہ بال کیوں نمایاں رکھتے تھے ؟ مستنصر حسین تارڑ نے انوکھی کہانی بیان کر دی

لاہور (ویب ڈیسک) ابھی ایک دو برس پیشتر مجھے کسی پروگرام کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں پاکستان ٹیلی ویژن لاہور جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے وہاں قبرستان ایسی خاموشی محسوس ہوئی حالانکہ رونق بہت تھی۔ چہل پہل تھی لیکن میرے کانوں میں ایک سناٹا اترتا تھا۔ لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریاں سنسان پڑی تھیں۔

نامور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے وہاں شائبے سے ہوتے تھے کہ یہ کون تھا جو میرے قریب سے گزر گیا اور مجھ سے ملنے کے لئے ٹھہرا بھی نہیں۔ سلام دعا تک نہیں کی۔خیام سرحدی‘ شفیع محمد‘ جمیل فخری‘ ظل سبحان‘ فاروق ضمیر‘ محبوب عالم‘ بدیع الزماں‘ ایوب خان‘ ایم شریف کون تھا۔ اگر یہ طاہرہ نقوی تھی تو مسکرائے بغیر کیوں چلی گئی کہ میں اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اسے منی مدھوبالا کہا کرتا تھا۔ ٹیلی ویژن کی راہداریوں میں پرچھائیاں ظاہر ہوتی تھیں اور تحلیل ہو جاتی تھیں۔ یہاں تک کہ ڈرامہ پروڈیوسرز کے کمرے بھی ویران پڑے تھے۔ جانے یہ سب لوگ کہاں چلے گئے تھے یا ایک ہی روز چھٹی کر گئے تھے۔ کہاں ہے ہمارا گیسو دراز نایاب محمد نثار حسین۔ ہمارا چن جی یاور حیات اور کنور آفتاب‘ تینوں اپنے اپنے انداز کے موجد اور منفرد تخلیق کار، کہاں گئے؟۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے اتنے عرصے کے بعد لاہور ٹیلی ویژن کی عمارت میں داخل نہیں ہونا چاہئے تھا کہ میں جس بستی میں شب و روز بسر کرتا تھا وہ تو اجڑ چکی۔ میرے دوست اور شناسا تو کب کے یہاں سے منتقل ہو چکے۔ جانے کہاں کہاں کن شہروں کی مٹی میں مٹی ہو چکے۔ آج سویرے میری بیٹی عینی نے ہسپتال روانہ ہونے سے پیشتر آزردہ ہو کر کہا ’’ابو وہ عابد علی بھی مر گیا۔ اچھا انسان تھا۔ جب کبھی ہمارے گھر آتا تھا تو کتنی محبت سے ملتا تھا‘‘ مجھے اس کی موت

پر ایک دھچکا سا لگا لیکن میں سنبھل گیا کہ ان دنوں مجھے ایسے دھچکے لگتے ہی رہتے ہیں اور میں ان کا عادی ہو چلا ہوں۔ لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریوں میں ابھی عابد علی کھلے گلے کی قمیض میں دکھائی دے رہا تھا اور ابھی وہ بھی دیگر پرچھائیوں میں شامل ہو کر ایک اور پرچھائیں ہو کر اوجھل ہو گیا۔ عابد علی جب پہلے پہل لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریوں میں دکھائی دیا تو ان زمانوں میں میں نے اپنے آپ کو صرف اداکاری کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ فل ٹائم ایکٹر تھا اور ابھی میزبانی اور ڈرامہ نگاری کی جانب ملتفت نہ ہوا تھا۔ انور سجاد‘ اشفاق احمد‘ محمد نثار حسین اور یاور حیات مجھ پر مہربان تھے اور میرے حصے میں چند یادگار کردار آ گئے۔ اگرچہ کچھ حضرات کا خیال تھا کہ میں صرف اپنی شکل کی کھٹی کھاتا ہوں اور یہ کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا لیکن مجھے میرے قدرتی اور نارمل انداز کی وجہ سے ڈراموں میں کاسٹ کیا جاتا تھا۔ اس لئے بھی کہ میں نے اداکاری کی باقاعدہ تربیت کہیں سے حاصل نہ کی۔ نہ ریڈیو کا رُخ کیا اور نہ سٹیج کا۔ میں صرف ٹیلی ویژن کیمروں کا پروردہ تھا۔ بقول شاہ حسین‘ شاہ حسین جولاہا‘ جو آہا سو آہا۔ یعنی میں بھی ایک جولاہا تھا لیکن جیسا تھا بس ویسا ہی تھا۔ عابد علی ایک پروجاہت نوجوان تھا۔ ناک نقشے میں مردانگی تھی۔ قدآور تھااور ہمیشہ قمیض کے گلے کے اوپر ولے دو بٹن کھول کر اپنے سینے کے سیاہ بال نمایاں کرتا تھا۔ ہم نے سنا کہ وہ کوئٹہ سے آیا ہے

اور بنیادی طور پر ریڈیو صداکار ہے۔ وہ جمیل ملک کے بہت قریب تھا ملک صاحب نہایت بنے ٹھنے رہتے ہیں۔ ریڈیو پر پروڈیوسر تھے۔ ڈرامے لکھتے اور کبھی کبھی اداکاری سے بھی شغف فرماتے۔ نہایت تھیٹریکل شخص تھے۔ علاوہ ازیں عابد علی کی نصرت ٹھاکر اور عظمیٰ گیلانی سے بھی بہت دوستی تھی۔ ڈراموں میں چھوٹے موٹے کردار ادا کرنے کے بعد وہ اپنی صلاحیت اور شخصیت کی وجہ سے ٹیلی ویژن کے نمایاں اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔ وہ ہمارے بیشتر اداکاروں کی مانند پھنے خاں نہیں تھا کہ ہر وقت ڈینگیں مارتا رہتا کہ میں نے فلاں ڈرامے میں نصیرالدین شاہ کو مات کر دیا۔ تاریخ رقم کر دی وغیرہ۔ اس میں انکسار بہت تھا۔ وہ خود نہیں لوگ اس کی اداکاری کی بے پناہ توصیف کرتے تھے۔ ہم دونوں نے اکٹھے بہت سے ڈراموں میں اداکاری کی جن میں ’’ایک حقیقت سو افسانے‘‘ سرفہرست ہے لیکن ہم دونوں قریب ان زمانوں میں آئے جب اس نے میرے لکھے ہوئے سیریل’’ہزاروں راستے‘‘ میں ایک کروڑ پتی کا مرکزی کردار ادا کیا۔ اسے راشد ڈار نے پروڈیوس کیا تھا۔ میں اپنے ڈراموں اور سیریلز کی ایک دو ابتدائی ریہرسلیں خود لیتا تھا تاکہ اداکاروں کو سمجھا سکوں کہ مجھے کیسا کردار درکار ہے۔’’ہزاروں راستے ‘‘ کا آغاز ان زمانوں کے مطابق نہایت شاہانہ تھا یعنی عابد علی اپنے ذاتی جہاز میں سفر کر رہا ہے۔ جہاز لینڈ کرتا ہے تو اس کا سیکرٹری اورنگزیب لغاری ایک سیاہ لیموزین کے ساتھ اس کے استقبال کے لئے موجود ہے اور اس کا بیٹا فردوس جمال غائب ہے۔

ریہرسل کے آغاز میں عابد علی کہنے لگا’’تارڑ صاحب۔ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں کہ میں یہ کردار کس طورکروں‘‘ تو میں نے کہا عابد تم اس سیریل میں ایک کروڑ پتی اور لالچی شخص ہو جس کا موٹو ہے’’پیسے کی کوئی سرحد نہیں۔ دولت کا کوئی پرچم نہیں‘‘ تو فی الحال تم اپنی قمیض کے اوپر والے بٹن بند کرنا شروع کر دو یعنی معزز ہوجائو۔ علاوہ ازیں اپنی تھیٹریکل آوازکو قابو میں رکھتے ہوئے قدرتی انداز اختیار کرو‘ عابد علی نے وہ کردار اتنے موثر انداز میں ادا کیا کہ اس برس اسے ’’ہزاروں راستے‘‘ پر پہلی بار ٹیلی ویژن کے بہترین اداکار کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس سیریل کے لئے بہترین ڈرامہ نگار کے طور پر میری نامزدگی بھی ہوئی۔ اسی طور جب میں نے ’’سورج کے ساتھ ساتھ‘‘ تحریر کیا تو اس میں بھی عابد علی کو ایک اہم کردار کے لئے منتخب کیا اور اس نے حق ادا کر دیا۔ اگرچہ سورج کے ساتھ ساتھ پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے مجھے کچھ مسائل درپیش ہوئے لیکن ہم سب سنبھل گئے اور یہ سیریل اب بھی لوگوں کی یادداشت میں محفوظ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ سورج کے ساتھ ساتھ میں موچی کا کردار ادا کرنے پر خیام سرحدی کو پرائڈ آف پرفارمنس سے نوازا گیا اور وہ ایسا جذباتی شخص تھا کہ فون پر رونے لگا کہ یہ ایوارڈ آپ کو پہلے ملنا چاہئے تھا۔ آپ میرے استاد ہیں۔ میں انکار کردوں گا۔ بہرحال بڑی مشکل سے اسے سمجھایا۔ ایک دو برس بعد جب مجھے یہ صدارتی ایوارڈ ملا تو پہلا فون خیام سرحدی کی جانب سے آیا اور وہ پھرجذباتی ہو رہا تھا۔ اس کی موت کا سبب بھی شائد اس کی شدید جذباتی خصلت تھی۔ انہیں دنوں جب عابد علی عروج پر تھا، لاہور ٹیلی ویژن کی راہداریوں میں ایک نہایت چلبلی ‘ خوش شکل اور سوہنی آنکھوں والی لڑکی حمیرہ چودھری دکھائی دینے لگی۔ وہ نہ صرف گلو کارہ تھی بلکہ اداکاری بھی کمال کی کرتی تھی۔ اشفاق احمد کے ڈرامے ’’غریب شہر‘‘ میں وہ میرے ساتھ کاسٹ ہوئی۔ اس میں شرارت بہت تھی۔ عابد علی اس کی عشوہ طرازیوں کی تاب نہ لا سکا اور اس کے ساتھ شادی کر لی اور اسے ایک گھریلو خاتون میں ڈھال دیا۔ میرے پاس لاہورمیں ماضی کے کچھ نقش تصویروں کی صورت میں کہیں نہ کہیں موجود ہوں گے اور ان میں عابد علی ہو گا لیکن میں اس کی تصویریں تلاش نہیںکروں گا کیونکہ وہ ان میں زندہ ہے۔ میں اگر اس کی کسی تصویر کو دریافت کرکے دیکھوں گا تو وہ مرجائے گا۔ عجیب بات ہے اسے لحد میں اتار کر اس کے کفن کے بندکھولے گئے ہوں گے جیسے وہ اپنی قمیض کے اوپر والے بٹن کھولے رکھتا تھا۔عابد علی بھی سورج کے ساتھ ساتھ چلتا بالآخر اس کے ساتھ ہی ڈوب گیا۔

Categories
اہم خبریں

ڈیل فائنل۔۔ رہائی کے بعد نواز شریف کی منزل کیا ہوگی؟فیصلہ ہو گیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سابق وزیر اعظم عمران خاں جو اس وقت جیل میں ہیں اور نیب کیسز میں سزا بھگت رہے ہیں جن کا کیس ضمانت کے لئے 18 ستمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لئے مقرر ہو چکا ہے اور اس بار جو کچھ ہو گا وہ ڈیل فائنل ہوچکی ہے اس کے مطابق ہو گا اس بارے میں

سینئیر اینکر پرسن اور تجزیہ کار عمران خان نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں کے بعد میاں نواز شریف کو عدالت سے ضمانت ملے گی۔ اُن کے کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہو گا۔ ضمانت کے بعد اُنہیں پاکستان سے باہر جا کر علاج کروانے کی اجازت بھی ملے گی۔ میاں نواز شریف صاحب پاکستان سے باہر چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ میاں نواز شریف صاحب کو صحت کی بنا پر ضمانت ملے گی، اُنہیں اپنے مقدمے میں ضمانت ملے گی۔ ضمانت کے بعد انہیں صحت کی بنیاد پر بیرون ملک جانے کی اجازت ملے گی جس کے بعد میاں صاحب اپنے بچوں کے پاس علاج کروانے چلے جائیں گے۔ مریم نواز بھی پاکستان سے باہر چلی جائیں گی جس کے بعد نواز شریف کے کیسز التوا کا شکار ہو جائیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف یہی کہتی رہے گی کہ ایک کرپٹ انسان ہے وہ صحت کا بہانہ کر کے باہر بھاگ گیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کو تباہ کیا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کا یہ مؤقف ہو گا کہ میاں نواز شریف اُتنا ہی زیادہ بیمار ہیں جتنا اُن کی بیگم صاحبہ بیمار تھیں۔ اور میاں صاحب اپنے کیسز کا آ کر اُسی طرح سامنا کریں گے جیسے انہوں نے پہلے کیا۔ نہ وہ پہلے کبھی بھاگے ہیں نہ وہ اب بھاگیں گے۔اس وقت وہ بیمار ہیں ابھی نہیں آ سکتے۔ مریم نواز بھی عملی سیاست سے دور چلی جائیں گی اور غالباً آئندہ انتخابات میں

وہ وطن واپس آئیں گی ۔ اُس وقت مریم نواز اپنے والد کو بیرون ملک چھوڑ کر ہی واپس آئیں گی اور آ کر پاکستان کی سیاست میں عملی طور پر حصہ لیں گی۔ اس دوران مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کو سیاست میں کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ اس کے علاوہ جو پیسہ آنا ہے وہ چیزیں طے ہو چکی ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ میری اس خبر کو تاریخ لگا کر ریکارڈ کر کے رکھ لیں۔

Categories
اہم خبریں

وزیراعظم عمران خان کے بیٹے بھی والد کے نقش قدم پر چل پڑے جمائما خاںنے دونوں بیٹوں کی ایسی تصاویر شیئر کر دیں کہ ہر کوئی حیران

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خاں کے دو بیٹے سلمان اور قاسم ہیں جو کہ سابقہ اہلیہ جمائمہ خاں کے بطن سے ہیں وہ اکثر اوقات اپنے والد عمران خاں سے ملنے پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں دونوں بیٹے زندگی کا زیادہ تر وقت اپنی والدہ جمائمہ خاں کے پاس لندن میں ہی گزارتے ہیں .


وزیراعظم عمران خان کے بیٹے سلیمان اور قاسم بھی والد عمران خان کے نقش قدم پر چل پڑے،سابقہ اہلیہ جمائما نے دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری کا عندیہ دے دیا،جمائما گولڈ اسمتھ نے انسٹاگرام پر بیٹوں کی کرکٹ ڈریس والی تصاویر بھی جاری کردیں۔وزیراعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے انسٹاگرام پر دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری کا عندیہ دے دیا ہے۔ تاہم عمرا ن خان نے کبھی بھی اپنے دونوں بیٹوں کی کرکٹ میں انٹری بارے تبصرہ نہیں کیا۔ لیکن بیٹوں سے متعلق سیاست کے حوالے سے ان کی دلچسپی کو وزیراعظم عمران خان متعدد بار مسترد کرچکے ہیں۔جمائما گولڈ اسمتھ کی اسٹوری میں دیکھا گیا کہ سلیمان اور قاسم کرکٹ ڈریس میں میدان میں موجود ہیں۔ایک اور تصویر میں وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے سلیمان کو بلے اور پیڈ میں دیکھا گیا ۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان دنیائے کرکٹ کے نہ صرف کامیاب مایہ ناز آل راؤنڈر رہے بلکہ مضبوط ترین کپتان اور 1992ء کا ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ عمران خان کو دنیا کا ایک کامیاب شخص کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ سیاست میں سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے

وزیراعظم عمران خان نے جب کرکٹ کی دنیا کو خیرباد کہا تو فلاحی اور سماجی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کا بہترین جدید سہولیات سے آراستہ شوکت خانم ہسپتال بنایا جہاں آج کینسر میں مبتلا مستحق لوگوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، اسی طرح میانوالی کے پسماندہ علاقے میں نمل یونیورسٹی بنائی۔بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے الیکشن 2013ء میں حصہ لیا لیکن وہ صرف ایک صوبے کے پی میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکے۔ لیکن الیکشن 2018ء میں وزیراعظم عمران خان نے الیکشن میں کامیابی حاصل کی اور وفاق سمیت پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے۔ جبکہ بلوچستان میں اُن کی اتحادی حکومت قائم ہے

Categories
اہم خبریں

رات گئے بڑاسیاسی دھماکہ : کپتان نے زرداری کو جیل بجھوا کر پیچھے سے پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی وکٹ گرا دی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) الیکشن 2018 سے قبل یہاں پر ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف نے تمام سیاسی جماعتوں کی بڑی بڑی وکٹیں گرا کر ساری جماعتوں کو کنگال کر دیا تھااب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بھی ایک سال کا عرصہ گزر چکا تھا مگر کپتان اب بھی مخالفین کی کٹیں گرا رہے ہیں اب رات گئے


پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کے سابق نائب صدر اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ ہولڈر، معروف سیاسی و سماجی راہنماء حاجی محمد گلزار اعوان نے پی پی پی کو راولپنڈی کینٹ میں ایک بڑا دھچکا دیتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون محمد بشارت راجہ، پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر زاہد حسین کاظمی اور جنرل سیکریٹری عامر محمود کیانی کی موجودگی میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ہے. اس سلسلے میں ایک خصوصی تقریب حاجی محمد گلزار اعوان کی رہائش گاہ واقع ویسٹریج میں منعقد ہو ئی جس میں محمد بشارت راجہ، صدر زاہد حسین کاظمی، عامر محمود کیانی کے علاوہ معروف مذہبی راہنماء پیر کرامت، علمائے کرام، دیگر پارٹی راہنماء اور حاجی محمد گلزار اعوان کے سینکڑوں سپورٹرزبھی موجود تھے. پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے حاجی محمد گلزار اعوان کے اس فیصلے کو زبردست پذیرائی بخشی گئی. محمد بشارت راجہ نے کہا کہ حاجی محمد گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت سے راولپنڈی کینٹ میں پارٹی مضبوط اور زیادہ فعال ہو گی. انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف ملک سے روایتی سیاست، کرپشن، نا انصافی اور

لاقانونیت کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ

با اثر حکمرانوں پر بھی قانون کو لاگو کیا گیا. انہو ں نے کہا کہ کشمیر کا مقدمہ جس طرح پاکستان تحریک انصاف لڑ رہی ہے اس کی توفیق سابقہ کسی حکومت کو نہ ہو سکی. یہ ہمارا اخلاص اور وطن عزیز کو صحیح معنوں میں اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے کہ ہمیں حاجی محمد گلزار اعوان جیسے انتہائی متحرک و فعال ساتھی مل رہے ہیں. زاہد حسین کاظمی اور عامر محمود کیانی نے بھی حاجی گلزار اعوان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سب نے مل کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی جدوجہد کرنی ہے جس میں ہمیں مخلص اور صحیح معنوں میں کام کرنے والے ساتھی مل رہے ہیں. حاجی محمد گلزار اعوان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان کی قیادت اور پارٹی منشور پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے گذشتہ سالوں میں رات دن ایک کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے خاموش بیٹھے ورکروں کو گھروں سے نکالا اور پارٹی کو فعال بنایا مگر پارٹی قیادت کو شائد کام کرنے والے لوگ اچھے نہیں لگتے جن کے سرد رویے سے پارٹی کارکنوں میں شدید مایوسی پھیلی. انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے سیاسی پردے پر تحریک انصاف کے سوا کوئی دوسری جماعت نہیں جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے باہر نکال سکے. انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے پورے خلوص نیت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو دنیا پر اجاگر کرکے اس کے حل کی بنیاد رکھ دی ہے اور یہ توفیق سابق حکمرانوں کو نہ ہو سکی

Categories
اہم خبریں

بھارت کی وی وی آئی پیز کیلئے فضائی حدود بند کرنے کے بعد اب کس کی باری ہے؟ پاکستان نے دو ٹوک اعلان کردیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی وجہ سے بھارتی صدر رام ناتھ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ غیر ملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر ہوا بازی کا کہنا تھا کہ بھارت کو مزید رعایت نہیں دیں گے، تمام

متعلقین سے بات کرکے فضائی حدود بند کی۔غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ بھارت ابھی بھی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ کشمیر میں مودی حکومت کا رویہ قابل نفرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وی وی آئی پی کے علاوہ بھارتی ایئر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کرنا بھی زیر غور ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے یوم دفاع کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا ہے۔انہوں نے کہا کہ کرفیو کے ذریعے کشمیریوں کو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے روکا گیا ہے، ہم کیسے یہ سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں؟فاقی کابینہ اور پارلیمنٹ بھی بھارت کو مزید رعایت دینے کے لیے راضی نہیں۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 34 روز سے کشمیریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کر رکھا ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر میں بربریت اور ظلم ہو رہا ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی صدر نے آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن مقبوضہ کشمیر کے موجودہ حالات میں بھارتی قیادت کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے بتایا کہ بھارتی جنونیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے یہ فیصلہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے فیصلے کی منظوری بھی دیدی ہے۔

Categories
اہم خبریں

بالآخر حکومت کو عوام پر رحم آ ہی گیا ۔۔۔۔ قیمتوں میں کمی کے حوالے بڑا اعلان کر دیا گیا

لاہور (ویب ڈیسک) اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ دو حکومتوں کی غلط معاشی پالیسیوں اور کرپشن کی وجہ سے موجودہ حکومت کو اپنے ابتدائی دِنوں سے ہی سخت معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لیکن اس سب معاشی مشکلات کے موجودہ حکومت عوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہوئی نظر آرہی ہے اور اب


اطلاعات ونشریات کے بارے میں وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے تندروں کیلئے گیس کے نرخوں میں اضافے پر نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد عام آدمی کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عوام کو سہولتوں کی فراہمی وزیراعظم کا بنیادی ہدف اور اولین ترجیح ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اگر پرفارم نہیں کریں گے تو وزیراعظم کو بھی گھر جانا پڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ سب کو پرفارم کرنا پڑے گا ورنہ جو کام نہیں کرے گا وہ گھر واپس جائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم ہو یا وزیراعلیٰ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صرف ایک پیمانہ پرفارمنس ہے جو نہیں دے گا وہ جائے گا۔معاون خصوصی اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان آج لاہور وزیریاسمین راشد اور وزیراطلاعات میاں اسلم اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہی تھیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ صحت کے شعبے میں یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کے شعبے میں یہ ریفارمز بہت پہلے ہونی چاہیے تھی۔ مہذب معاشرے میں تبدیلی لانے کیلئے پیرا میٹرز لانے پڑتے ہیں۔ہسپتال جب بنے تو مختلف قوانین آتے رہے ہیں۔جب تک مسئلے کی جڑ کو نہ پکڑا جائے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں پرچی کی کوئی فیس نہیں ہے، فری علاج ، فری ٹیسٹ اور فری ادویات ہوں گی۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں صحت کے شعبے میں دیے گئے پیسے صحیح طرح سےعوام پرخرچ ہوں۔ اگر ہسپتالوں کا سسٹم اچھا ہوتا تو اصلاحات کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 14 ہزار ڈاکٹرز میرٹ پر بھرتی کیے ہیں۔ کسی سرکاری ہسپتال کی نجکاری نہیں ہورہی۔ حکومت عوام پر پیسے خرچ کرے گی اور ہسپتالوں سے حساب کرے گی۔ اگرحکومت آپ کو نوکری دی رہی ہے تو آپ حکومت کے ملازم ہیں۔ ہر سال ہسپتالوں کی آڈٹ رپورٹ بنائی جائےگی۔ انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے تحت لوگ نجی ہسپتالوں میں بھی علاج کرا سکتے ہیں۔ ہیلتھ کارڈ سے 93 ہزار لوگ مستفید ہو چکے ہیں۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سب کو کام کرنا پڑے گا ورنہ وہ نقصان اٹھائے گا پھر چاہے وہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ ہی کیوں نہ ہوں۔

Categories
اہم خبریں

عمران خان کے بعد وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟ تحریک انصاف سے سب سے مضبوط امیدوار کا حیران کن نام سامنے آگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بنی ہے تب سے ہی موجودہ وزیر اعظم عمران خاں اور اُن کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جا رہی ہیں قبل ازیں خبریں گردش کرتی رہی ہیں کہ میاں محمد سومرو کو وزیر اعظم بنایا جا رہا ہے تاہم اب حکومتی جماعت کے بڑے حامی صحافی


سینئیر صحافی ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بننے کے خواہشمند تھے تاہم انکی پارٹی میں موجود چند اہم لوگوں کی مخالفت سے یہ خواب پورا نہ ہوا لیکن اب وہ وزیراعظم کےاہم امیدوارہونگے۔ ڈاکٹر دانش نے دعویٰ کیا ہے کہ شاہ محمود قریشی وزیراعظم پاکستان بننے کے بڑے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان تحریکِ انصاف حکومت میں آئی تو قیاس کیا جا رہا تھا کہ شاہ محمود قریشی وزیراعلیٰ پنجاب بنیں گے لیکن ایسا نہ سکا اور عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا۔ اب گزشتہ کچھ عرصے سے عثمان بزدار پر استعفے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ وزیراعظم کے حوالے سے بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ جلد عثمان بزدار کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ میں سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی سربراہی میں فارورڈ بلاک بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ مسلسل نیب تحویل میں رہنے کے دوران سپیکر سندھ اسمبلی نے

اپنی ہی پارٹی کیخلاف کام شروع کیا، آغا سراج نے اپنی جماعذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کے ایک درجن سے زائد ایم پی ایز سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکر نے صوبائی اسمبلی کےارکان کو قائد ایوان کی تبدیلی پر قائل کرنے کی کوشش بھی کی، سپیکر سندھ اسمبلی نے ایسے ارکان سے رابطہ کیا جو پارٹی اور سندھ حکومت سے نالاں تھے۔ذرائع کے مطابق سراج درانی کے روابط کا راز فاش ہونے پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے سخت نوٹس لے لیا۔ذرائع کے مطابق پارٹی کی ایم پی ایز سے ملاقاتوں کے بعد ارکان نے ساری بات پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھ دی، پیپلزپارٹی چیئرمین راز فاش ہونے کے بعد شدید ناراض ہو گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کی جانب سے کسی بھی کارروائی کا فیصلہ بلاول بھٹو کی جانب سے وطن واپسی پر ہو گا، فوری طور پر آغا سراج درانی کیخلاف کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ خیال رہے کہ سندھ میں چند عرصے سے پیپلز پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما مولا بخش چانڈیو نے پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کرنے والے

گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سے لوگوں کو الگ کی جاسکتا ہے لیکن اس سے ہوگا کیا؟ پیپلز پارٹی پھر پوری طاقت سے واپس آئیگی اور فارورڈ بلاک بنانے والے گم ہو جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں فاورڈ بلاک کی باتیں پرانی ہیں جو بھی پیپلزپارٹی سے الگ ہوئے ، اب وہ کہاںہیں ؟ ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی سے جو الگ ہوا ، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ واضح رہے کہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ہ سندھ میں 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہے، جس میں تھرپار کر اور نواب شاہ کے ایم پی ایز بھی شامل ہیں۔ اس میں مخدوم فیملی اور نادر مگسی کا نام بھی سامنے آ رہا ہے۔ 27 ارکان پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار مراد علی شاہ کی گرفتاری کا انتظار کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اگر مراد علی شاہ گرفتار ہو جائیں تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہی نہ رہے کیونکہ 27اراکین صوبائی اسمبلی پر مشتمل فارورڈ بلاک تیار ہو چکا ہے اور جیسے ہی مراد علی شاہ گرفتار ہوتے ہیں یہ گروپ پیپلز پارٹی چھوڑ کر الگ ہو سکتا ہے جس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت نہیں رہے گی ایسی صورت میں آصفہ بھٹو زرداری سندھ میں اپوزیشن لیڈر بنیں گی۔

Categories
اہم خبریں

ایک اور بین الاقوامی ادارے نے پاکستانی آرمی چیف اور پاک فوج کی کس صلاحیت کا واضح اعتراف کر لیا ؟ شاندار خبر آگئی

واشنگٹن(ویب ڈیسک) امریکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خارجہ اور سکیورٹی پالیسی پر فوج کا اثر و رسوخ نمایاں ہے تاہم پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ غیر سیاسی اور پروفیشنل ہیں۔ امریکی قانون سازوں کے لیے کانگریشنل ریسرچ سروس (سی آر ایس) کی تیار کردہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب واشنگٹن میں


کشمیر کے تنازع سے متعلق خدشات زور پکڑ رہے ہیں۔واشنگٹن میں موجود پالیسی ساز کا ماننا ہے کہ کشمیر پر پاکستان کس طرح ردِ عمل ظاہر کرے گا اس کا تعین کرنے میں فوج فیصلہ کن کردار ادا کرے گی اور بظاہر اسی وجہ سے سی آر ایس نے فیصلہ کرنے کے عمل میں فوج کے کردار پر امریکی قانون سازوں کے لیے بریفنگ تیار کی۔رپورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال کی توسیع ملنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں واضح طور پر پروفیشنل اور غیر سیاسی مانا جاتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق حالانکہ فوج نے 72 برس میں 3 سویلین حکومتوں کو ختم کیا تاہم انہوں نے یہ واضح یا ضمنی صدارتی احکامات پر کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خاتمے اور ایسی فلاحی ریاست جو معیاری تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرے گی کا نعرہ بلند کر کے بہت سے نوجوانوں، شہریوں اور مڈل کلاس ووٹرز کو متحرک کیاتاہم ان کوششوں کا آغاز ملک کے شدید مالی بحران، حکومتی سادگی اور غیر ملکی قرضے لینے کی ضرورت سے ہوا۔سی آر ایس کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے فوج کے ساتھ اچھے مراسم ہیں اور گزشتہ برس ہونے والے عام انتخابات نے پاکستان کی سیاست پر 2 دہائیوں سے زائد جاری 2 خاندانی جماعتوں کے غلبے کو ڈرامائی طور پر ختم کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک کی اقتصادی نمو حالیہ سالوں کے دوران اچھی رہی لیکن آبادی میں اضافے کی رفتار کے حوالے سے کم ہے ۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: عمران خان کا فیصلہ درست ثابت ہوا ۔۔۔ آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے تازہ ترین خبر پڑھ کر آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے دعوی کیا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ دستخط شدہ اصلاحی ایجنڈا اپنی راہ پر گامزن ہے، مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران کارکردگی بہت حوصلہ افزا ہے اور حکومت اپنے تمام مقرر کردہ


اہداف حاصل کرلے گی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ مالی سال 20-2019 کی پہلی سہ ماہی کے دوران تمام کار کردگی اور ساختی بینچ مارک بہت حوصلہ افزا ہیں اور تمام اہداف پورے ہوجائیں گے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری اصلاحی پروگرام پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ خیال رہے کہ وزارت خزانہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب میڈیا میں یہ رپورٹس منظر آئیں کہ مالی 19-2018 کے اختتام پر بڑے خسارے پر پروگرام سے متعلق دوبارہ بات چیت جاری ہے۔ وزارت خزانہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ تمام اہداف مکمل ہوجائیں گے، اس پر آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ میڈیا کو آئی ایف ایف کے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد آزور کے دورہ پاکستان سے متعلق غلط فہمی ہوئی۔وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ ہفتے وزارت کے حکام جہاد آزور سے ملاقات کریں گے اور انہیں اب تک کے حاصل ہونے والے نتائج سے آگاہ کریں گے۔اس کا مزید کہنا تھا کہ یہ دورہ توسیعی فنڈز سہولیات پروگرام کے حتمی ہونے کے فوری بعد ان کے ستمبر میں دورہ پاکستان کو ترتیب دیا گیا تھا، تاہم میڈیا میں اسے نظر ثانی مشن قرار دیا گیا، ان کا یہ دورہ روٹین ہے نظر ثانی نہیں ہے۔وزارت نے کہا کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے بعد آئی ایم ایف کی تکنیکی بات چیت ہوگی جس میں دونوں فریقین اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔

Categories
اہم خبریں

محرم الحرام میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، ڈالر کی قدر میں کتنی کمی ہوئی؟ بڑا تہلکہ

کراچی (ویب ڈیسک )سٹاک ایکسچینج کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی گئی، ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا اور انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30467 کی سطح پر بند ہوا، شئیرز کی قیمت بڑھنے پر

مارکیٹ کپیٹلائزئشن 105 ارب روپے اضافے سے 6187 ارب روپے ہوگئی،مہنگائی کی روح توقعات سے کم رہنے پر خریداری کا رجحان دیکھا گیا۔پاکستان سٹاک ایکسچینج کی جاری ہونے والی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں 100 انڈیکس میں 2.7 فیصد اضافہ ہوا،100 انڈیکس 795 پوائنٹس اضافے سے 30 ہزار467 کی سطح پر بند ہوا، شیئرز کی قیمت بڑھنے پر مارکیٹ کپیٹلائزیشن 105 ارب روپے اضافے سے 6 ہزار187 ارب روپے ہو گئی۔ دوسری جانب ڈالر کی ہفتے وار رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 53 پیسے سستا ہوا، ایک ہفتے میں انٹر بینک میں ڈالر 156.85 سے کم ہوکر 156.32 پیسے ہر بند ہوا جبکہ اوپن ایکسچینج میں ڈالر 50 پیسے سستا ہوا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے، پنجاب حکومت کے انقلابی اقدامات کے بارے میں عوام کو آگاہ کیا جائے گا،عدالت نے انسانی خواہشات کے مطابق فیصلے نہیں کئے عدالت کے فیصلہ سے ثابت ہواکہ وہ آزاد ہیں اور امید ہے کہ اب (ن) لیگ عدالتوں پر انگلیاں نہیں اٹھائے گی،جو پیسے دے گا وہی باہر جائے گا لیکن یہ بات بھی واضح ہے کہ فی الحال کوئی ڈیل نہیں ہو رہی ہے، کوئی ہسپتال پرائیویٹائز نہیں کیا جا رہا، پنجاب کا شعبہ صحت میں اصلاحات کا آرڈیننس لے کر آئے ہیں، حکومت کے صحت کے شعبے میں عام آدمی کو تمام سہولتیں فراہم کرنا ترجیح ہے، پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی عوام تک پہنچائی جائے گی،ہسپتالوں میں مشینوں کی خرابی کی صورت میں متعلقہ بورڈ فوری فیصلہ کرے گا، اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔۔۔۔ پاکستان کے لیے اب تک کا سب سے بڑا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شمار وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کے قریبی دوستوں میں ہوتا ہے اور کچھ ماہ پہلے ان کی طرف سے پاکستان کا دورہ بھی کیا گیا تھا۔ اور اب اہم خبر آئی ہے کہ سعودی عرب نے سعودی ولی عہد کے


دورے کے دوران پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پر عمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کرادی ہے۔تفصیلات کے مطابق سعودی وفد نے وزیر توانائی کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کیا، سعودی وفد نے مشیرتجارت زراق داود سے ملاقات کی، جس میں سعودی عرب کی جانب سے 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ سعودی وزیر توانائی نے پاکستان میں کی گئی سرمایہ کاری کے معاہدوں پرعمل درآمد کو تیز بنانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا پاکستان میں پیٹرو کیمیکل ریفائنری لگائی جائے گی جو کہ ایک بڑا اور اہم منصوبہ ہوگا۔مشیرتجارت زراق دائود کا کہنا تھا کہ پاکستان کے توانائی سیکٹرمیں بے پناہ مواقع موجود ہیں اور اس سیکٹر میں سعودی عرب کو سرمایہ کاری انتہائی سود مند ثابت ہوگی دوسری خبر کے مطابق چین کا اقتصادی راہداری کے تحت ترقیاتی منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیاہے اور بتایا کہ چین کا پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کاری کا بھی منصوبہ ہے ۔چین کے سفارتکار نے کہا کہ پاک چین فری ٹریڈ ایگری منٹ کے دوسرے مرحلے کو اکتوبر میں حتمی شکل دیدی جائے گی جس کے باعث زرعی مصنوعات اور سمندری غذا سمیت 90 فیصد برآمدات پر کوئی ڈیوٹی نہیں ہو گی ۔ان کا کہناتھا کہ مارکیٹ کی رسائی پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر کا اضافہ کرے گی جو کہ باہمی تجارت کے خلاکو بھی کم کرے گی ۔انہوں نے شرکاءکو چین کے مختلف ترقیاتی منصوبوں میں ایک بلین ڈالر سرمایہ کاری کے منصوبے سے متعلق بھی آ گاہ کیا ۔ چین کے ایلچی نے بتایا کہ چین کی کاروباری خواتین کو اسلام آباد میں ہونے والے پانچویں ایکسپو میں بھی دعوت دی جائے گی جو کہ نومبر میں ہونے جارہی ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ اس کے علاوہ پاکستان کی کاروباری خواتین کو چین میں ہونے والی ایکسپوز میں شرکت کیلئے بھیجا جائے گا تاکہ وہ کاروبار کے مواقع تلاش کر سکیں ۔

Categories
اہم خبریں

’’نواز شریف ڈیل کے لیے راضی ہو گئے۔۔۔‘‘ کتنے ارب ڈالرز دینے کی یقین دہانی کروا دی ؟ پوری قوم کو حیرت میں ڈال دینےو الی تفصیلات

لاہور (ویب ڈیسک آن لائن) سابق وزیر اعظم پاکستان و قائد مسلم لیگ ن نواز شریف ان دِنوں جیل کی سزا کاٹ رہے ہیں اور اب نواز شریف کی تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے ساتھ ڈیل کے حوالے سے بہت بڑی خبر سامنے آ گئی ہے۔ اہم تفصیلات کے مطابق قائد ن لیگ


نواز شریف 14 ارب ڈالرز دینے کیلئے راضی ہوگئے، آفتاب اقبال کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل میں لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے وہ کافی تنگ ہیں، 14 ارب ڈالرز کی رقم صرف نواز شریف کی طرف سے آئے گی، شریف خاندان کے باقی لوگوں سے ملنے والی رقم الگ ہوگی۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف جیل میں سہولیات کی کمی کے باعث کافی تنگ ہیں۔جیل کے جس سیل میں انہیں رکھا گیا ہے وہاں لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ نواز شریف ان ہی مشکلات کے باعث 14 ارب ڈالرز کی رقم دینے کیلئے راضی ہوگئے ہیں۔ اس حوالے سے معروف اینکر آفتاب اقبال کا دعویٰ ہے کہ 14 ارب ڈالرز کی جس رقم کی بات ہو رہی ہے وہ تو صرف نواز شریف دے رہے ہیں۔نواز شریف کے علاوہ شریف خاندان کے مزید افراد بھی ہیں اور ان سے بھی پیسہ نکلوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ بد عنوان سیاستدانوں نے پیسے دینا شروع کر دئے۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ آصف زرداری کے دوستوں نے پلی بارگین کی کوششیں شروع کر دی ہیں جبکہ نواز شریف کا بھی یہی ارادہ ہے۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان کی قسمت بدلے گی، دس ہزار نوکریاں دے دی ہیں، کابینہ نے دس ہزار مزید نوکریوں کی منظوری دے دی ہے۔حکومت کا ایک لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا ارادہ ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ کوریا میں بھی ایک صدر جیل میں ہے دوسراقتل ہو گیا ہے، جو بے ایمان ہو گا، دھوکہ دے گا، عوام اور میڈیا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز یوم دفاع کے حوالے سے منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید نے کہا تھا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان مسئلہ کشمیر حل ہونے تک امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ہندوستان گزشتہ 72 سالوں سے کشمیریوں کے ساتھ بربریت کررہا ہے لیکن اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی سازش ہے کہ وہاں پیسہ لگائے اور کشمیریوں کو ویزوں کا لالچ دے لیکن کشمیری سوائے آزادی کے کچھ نہیں چاہتے ہیں۔ مودی نے22 /24 کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ ہندوستان نے کشمیر کے معاملے کو چھیڑ کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔دنیا میں قومیں تباہ ہوتی ہیں لیکن پھر کھڑی ہوجاتی ہیں مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ ان میں جذبہ زندہ ہو۔شیخ رشید نے اس عزم کا اظہار کیا کہ انشا اللہ وقت آنے پر پاکستان کے جھنڈے تلے اپنی جان دینے میں فخر محسوس کریں گے۔

Categories
اہم خبریں

جو کام ثاقب نثار نہ کر سکے وہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کر دکھایا ،3 ہفتوں کے اندر بڑا کام کرنے کا اعلان، پورا ملک خوشی سے نہال ہوگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک آن لائن) سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی ریٹارئرمنٹ کے بعد عہدہ سنمبھالنے والے موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کا شمار ملک کے قابل ترین ججز میں ہوتا ہے اور اب چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ آئندہ دو تین ہفتوں میں


لاہور رجسٹری کی کرمنل اپیلیں ختم ہو جائیں گی، لاہور رجسٹری سے وابستہ 12کروڑ کی آبادی میں کرمنل اپیلوں کاخاتمہ بڑی کامیابی ہے۔ جمعرات کوایک فوجداری اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہم لاہور رجسٹری کی وہ اپیلیں سن رہے ہیں جو ملتوی ہونے کی وجہ سے رہ گئی تھیں اور مجھے یقین ہے کہ آئندہ دوتین ہفتوں میں لاہور رجسٹری کی کرمنل اپیلیں ختم ہو جائیں گی جوایک بڑی کامیابی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ ان کی عدالت میں کیسز کارروائی کیلئے نہیں فیصلے کیلئے آتے ہیں، قرآن پاک میں ہے اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، بہتر انصاف نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ کچھ سال پہلے سپریم کورٹ میں 13 سے 14 ہزار اپیلیں زیر التوا تھیں لیکن اب سپریم کورٹ میں صرف 140 کرمنل اپیلیں زیر التوا ہیں ۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مقدمات کی کاز لسٹ لوگوں کی امانت سمجھتا ہوں، میری عدالت میں کیسز کارروائی کیلئے نہیں فیصلے کیلئے آتے ہیں، عدالتی کیریئر میں کئی بار مشکل وقت آیالیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کے توسط سے فیصلے کراتا ہے، انصاف کی فراہمی ججز پر بھاری ذمہ داری ہے ، جج کی حیثیت سے خود کو لالچ اور خوف سے آزاد کرنا ہوگا، جج کاکام دلائل سن کرفیصلہ کرناہے،کیس ملتوی کرنا نہیں۔ انہوں نے کہا قرآن پاک میں ہے کہ جب کوئی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو،انصاف کرنے میں جو سکون ملتا ہے اس کا نعم البدل نہیں ہے۔ قرآن پاک میں ہے اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، بہتر انصاف نہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہو اسے کوئی پریشانی نہیں آسکتی، اللہ تعالیٰ جن سے محبت کرتاہے ان کو خوف ہوتا ہے نہ کوئی غم۔

Categories
اہم خبریں

اور لو پاکستان سے پنگے: پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی، پاکستان کو8 ارب اوربھارت کوکتنا نقصان ہوا؟ حیرت انگیز انکشافات

پشاور (ویب ڈیسک آن لائن) وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے کہا ہے کہ فضائی حدود کی بندش سے بھارتی نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی، اڑھائی3 ماہ فضائی حدود بند رکھنے سے پاکستان کا نقصان کم اور بھارت کا کہیں زیادہ ہوا، فضائی حدود بند ہونے پر پاکستان کو 8 ارب اور


بھارت کو 28ارب کا نقصان ہوا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہ پاکستان کی فضائی حدود بند کیے جانے سے بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ اڑھائی3 ماہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے سے پاکستان کا نقصان کم اوربھارت کا کہیں زیادہ ہوا۔ پاکستان کو فضائی حدود بند ہونے پر 8ارب اوربھارت کو 28ارب روپے کا نقصان ہوا۔ پاکستان کی فضائی حدود 2 فروری کے واقعے پر بند تھی جو15، 16جولائی کی رات کھولی گئی۔انہوں نے کہا کہ 5 اگست کے ایکشن کے بعد قوم کے جذبات کی ترجمانی کی۔ہم نے بھارتی صدر کوپاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔ بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود اپنے صدر کیلئے استعمال کرنے کی درخواست کی تھی۔ بھارتی اتھارٹیزکومطلع کر دیا 8 ستمبر کو پاکستانی فضائی حدود سے بھارتی صدر نہیں گزرسکتے۔ بھارتی صدرکے طیار ے پرپاکستان کی فضائی حدود سے آنے جانے پرپابندی ہے۔ غلام سرور خان نے کہا کہ بھارت اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور کشمیریوں پرمظالم جاری رکھے تو دیگر آپشنز پربھی غور کررہے ہیں۔کشمیرمیں آج کرفیوکا35 واں دن ہے۔ کشمیری علاج معالجے سے بھی محروم ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے بھارت کے صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کر نے کی اجازت دینے کی درخواست مسترد کر دی۔ ہفتہ کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت کے صدر نے پاکستان سے ائر سپیس استعمال کرنے کی اجازت طلب کی تھی ہندوستان کے رویے کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم انہیں اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی صدر نے آئس لینڈ روانہ ہونا تھا۔

Categories
اہم خبریں

بریکنگ نیوز: پاکستان کا معاشی بحران ختم شد ۔۔۔ ملکی تاریخ کی ایک بڑی سرمایہ کاری کے اعلان نے بنی گالہ میں جشن کا سماں بنا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) کسی بھی ملکی معیشت کے لئے سرمایہ کاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس میں سرمایہ کاری ہو گی اُس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اور جس ملک کی معیشت مضبوط ہو گی اُس ملک پر تمام ممالک کا اعتبار قائم ہو گا اب پاکستان کے حلات بھی تیزی سے بدلنے شروع ہو گئے ہیں کیونکہ


اب پاکستان میں چین کے سفیر یاؤ جنگ نے کہا ہے کہ ہمارا ملک سی پیک پر کام کی رفتار سے مطمئن ہے، پاکستان اور چین کے مابین آزادانہ تجارت کے معاہدے کا دوسرا مرحلہ اگلے ماہ حتمی شکل اختیار کر لے گاجس کے بعد پاکستان کی زرعی پیداوار اور سی فوڈ سمیت 90 فیصد اشیا پر صفر ڈیوٹی عائد ہو گی جس سے تجارت متوازن کرنے میں مدد ملے گی۔ چین کے سفیر یاؤ جنگ نے یہاں ویمن چیمبر کی بانی صدرثمینہ فاضل کی قیادت میں آنے والے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایف ٹی اے ٹوکے آپریشنل ہونے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں 500 ملین ڈالر تک کا اضافہ ہو گا۔ پاکستان کے تعلیم، صحت، زراعت، آبپاشی اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس پر جلد عمل درآمد ہو گا۔ انہوں نے باہمی تجارت میں اضافہ کے لئے ویمن چیمبر کی سفارشات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ممالک کی تاجر خواتین کو قریب لانے کی کوشش کریں گے اور چینی تاجر خواتین کو نومبر میں منعقد ہونے والے پانچویں اسلام آباد ایکسپو میں مدعو کریں گے جبکہ پاکستانی تاجر خواتین کو چین میں منعقد ہونے والے مختلف نمائشوں میں بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین میں پاکستانی دستکاریوں کی بڑی مانگ ہے جبکہ بلوچستان کی

دستکاریوں کو بہت پسند کیا جاتا ہے۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں پر ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ جمعہ کومشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ سے چین کے سفیر یاہو جنگ نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف امکورپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ سی پیک حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے،سی پیک منصوبوں کو ترجیجی بنیاد پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چین کی توانائی اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں چینی امداد پر شکریہ گزر ہیں۔مشیر خزانہ نے کہاکہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گوادر بندرگاہ اور گوادر فری زون کے منصوبوں کو تیز رفتار کرنے کیلئے متعدد فیصلے کیے۔ جاری اعلامیہ کے مطابق مشیر خزانہ نے ایف اے ٹی ایف شرائط پر عملدر آمد کیلئے چین کی حکومت کی تکنیکی معاونت پر شکریہ ادا کیا۔

Categories
اہم خبریں

سب کی نظریں عمران خان پر۔۔۔ پاکستانی وزیر اعظم 14 ستمبر کو کیا کرنے جا رہے ہیں؟ بڑی خبر آگئی

پشاور (ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان طورخم بارڈر کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے منصوبے کا افتتاح 14 ستمبر کو کریں گے ، اقدام دونوں ممالک میں ٹرانزٹ، ٹریڈ بڑھانے کی طرف اہم پیشرفت ہے۔تفصیلات کے مطابق ذرائع کےپی حکومت کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد طور خم 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان اس

منصوبے کا 14 ستمبر کو افتتاح کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اقدام دونوں ممالک میں ٹرانزٹ، ٹریڈ بڑھانےکی طرف اہم پیشرفت ہے، دونوں طرف کاؤنٹرز 20 سے زائد اور حکام کی تعداد بھی بڑھا دی گئی ہے۔یاد رہے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا تھا پاک اٖفغان بارڈر کو 24گھنٹے کھولے رکھیں گے، بارڈرکھلے رہنے سے ٹرانزٹ بڑھے گی ، طور خم بارڈر کو جدید سہولتوں سےآراستہ کررہے ہیں، کوشش ہے بارڈر کے دونوں طرف مشکلات کاخاتمہ ہو۔محمودخان کا کہنا تھا کہ پاک افغان بارڈر پر امیگریشن کا عمل تیز بنانے کے لئے مزید کاؤنٹر بنائے جائیں گے، تجارت کے فروغ سے تعلقات میں بہتری آئےگی۔خیال رہے رواں سال جنوری میں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ میں نے متعلقہ افسران کو احکامات جاری کر دیے ہیں کہ 6 ماہ کے اندر طور خم بارڈر کو مکمل طور پر کھلا رکھنے کے لیے انتظامات مکمل کیے جائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر کا کھلا رہنا دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات اور بارڈر کے دونوں طرف رہائش پذیر افراد کے روزمرہ نجی تعلقات کے لیے بہت فائدہ مند ہوگا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کا دورۂ امریکا ختم کرنا باعثِ تشویش ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی شیڈول کے مطابق آج دورہ امریکا پر جانے والے تھے تاہم انھوں نے دورہ منسوخ کر دیا، ادھر اے این پی کے صدر نے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل تشویش کا باعث ہے۔اسفندیار ولی خان نے افغانستان میں امن معاہدے کے سلسلے میں کہا کہ فریقین کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی معاہدہ کام یاب نہیں ہو سکتا۔خیال رہے کہ صدر اشرف غنی آج ہفتے کو امریکی دورے پر روانہ ہونے والے تھے، یہ دورہ ایک ایسے وقت میں شیڈول کیا گیا تھا جب ملک میں طالبان اور امریکا کے درمیان جاری امن معاہدے سے متعلق شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔تاہم افغان میڈیا کے مطابق کابل میں گزشتہ روز ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد افغان صدر نے اپنے بیان میں امریکا طالبان مذاکرات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ امن مذاکرات بے معنی ہیں، طالبان گروپ بدستور بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہا ہے، ایسے میں امن کی امید لگانا بے معنی ہے۔دریں اثنا، اے این پی سربراہ اسفندیار ولی نے کشمیر کے سلسلے میں کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے ہونے والا تشدد بند کرائے۔

Categories
اہم خبریں

اچھا تو یہ بات تھی۔۔۔سعودی اور اماراتی وزرائے خارجہ اکھٹے کس مشن پر پاکستان آئے؟ بالاخر کہانی سامنے آگئی، پاکستانیوں کے لیے سرپرائز

لاہور (ویب ڈیسک) متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے اکٹھے پاکستان کا دورہ کیا اور اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کی اندرونی کہانی یہ سامنے آئی کہ عرب دوستوں نے پاکستان پر واضح کیا کہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے، اسے


مسلم امّہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اس خبر کو انکشاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا کیونکہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی اور فواد چوہدری پہلے ہی پاکستانیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں یہ بات اعلیٰ سطح کے رابطوں کے دوران سمجھ آچکی تھی۔ وزیرِاعظم عمران خان کی حکومت نے اسی لیے اس خبر پر نہ بُرا منایا اور نہ ہی اس کی تردید کی ضرورت محسوس کی گئی۔بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو اعلیٰ ترین سول اعزاز دینے کے بعد اماراتی وزیرِ خارجہ کا سعودی ہم منصب کے ساتھ پاکستان آنا اہم ہے۔ ایک تو نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے اماراتی شیخوں کے بارے میں پاکستان میں رائے عامہ متاثر تھی دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ واضح کیا جائے کہ نریندر مودی کو ایوارڈ دینے سے عرب امارات پاکستان کے ساتھ دشمنی نہیں کر رہا۔ تیسری وجہ اسرائیل فلسطین تنازع پر امریکی صدر کے ’ڈیل آف دی سنچری‘ کے اجرا کی تاریخ کا قریب آنا ہے۔ فلسطین تنازع کو بھی کشمیر کے ساتھ ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ فلسطین پر بھی عربوں کا مؤقف کشمیر کی طرح بدل گیا ہے۔پاکستان میں اماراتی شیخوں سے متعلق رائے عامہ ہمارے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے ہی ہموار کرچکے ہیں۔ جہاں تک بات ہے دشمنی کا تاثر ختم کرنے کی تو یہ اماراتی شیخوں کی ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی۔ عالمی سچائی کے طور پر ایک محاورہ سفارت کاری کا حصہ ہے کہ اگر تم اپنے حریف کو شکست نہیں دے سکتے تو اس کے شراکت دار بن جاؤ۔عرب امارات کو سی پیک اور گوادر سے کتنی ہی

پرخاش کیوں نہ ہو یہ حقیقت ہے کہ چین سی پیک سے پیچھے ہٹے گا اور نہ ہی گوادر منصوبے کو ناکام ہونے دے گا۔امارات کو ان دونوں منصوبوں سے ڈر ہے لیکن اسے یہ بھی علم ہے کہ وہ انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں، اس لیے وہ سفارت کاری کے اس سنہرے اصول پر عمل پیرا ہے۔ امارات پاکستان کو دشمن بنانے کی پوزیشن میں نہیں لیکن بھارت کے ساتھ مفادات بھی جڑے ہیں، اس لیے اس نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر کو چھوڑ کر باقی تمام امور پر پہلے کی طرح تعلقات اور تعاون برقرار رہے گا۔سعودی وزیرِ خارجہ اماراتی ہم منصب کے ساتھ آئے تاکہ وہ ثالثی کا کام کریں۔ سعودی عرب اور امارات یمن جنگ میں حلیف سے حریف بنتے جا رہے ہیں لیکن سعودی عرب اس امید پر امارات کا ساتھ نبھا رہا ہے کہ یمن میں امارات جنوبی یمن کی علیحدگی پسند کونسل کی سرپرستی چھوڑ دے گا۔اسرائیل میں 17 ستمبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج کے فوری بعد اسرائیل فلسطین امن منصوبے کی نقاب کشائی ہونا ہے۔ امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے مشرق وسطیٰ جیسن گرین بلاٹ کا استعفیٰ اس امن منصوبے میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ یہ ایک اشارہ ہے کہ ان کا کام مکمل ہو گیا۔اسرائیل فلسطین تنازع کے ممکنہ حل کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال بھی سر اٹھائے گا۔ اس کے لیے پہلے ہی سعودی عرب اور پاکستان میں بحث شروع کرائی جاچکی ہے۔ سعودی عرب میں حکومت کے ماؤتھ پیس کی حیثیت رکھنے والے صحافی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دلائل پیش کرچکے ہیں

اور رائے عامہ کافی حد تک ہموار کی جاچکی ہے۔پاکستان میں معروف صحافی اور اینکر کامران خان نے حکومت کا کام آسان کرتے ہوئے اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے پر ٹویٹ داغی اور اس کی ٹائمنگ اہم تھی۔ کامران خان ایک دن پہلے کپتان سے ملاقات کرچکے تھے۔ امارات کی طرف سے مودی کو ایوارڈ دیے جانے والے عمل نے بھی پاکستان میں اسرائیل سے تعلقات کی بحث چھیڑنے میں آسانی فراہم کی۔پاکستان میں اسرائیل سے تعلقات کی بحث نئی نہیں۔ 2012ء میں پرویز مشرف نے اسرائیلی اخبار کو انٹریو دیا اور کہا تھا کہ ہم قیامِ پاکستان سے ہی فلسطین کی حمایت کرتے آئے ہیں، لیکن میں حقیقت پسندی اور زمینی حقائق کے جائزے پر یقین رکھتا ہوں، تب سے اب تک بہت کچھ ہوچکا اور پالیسیاں ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتیں۔ کئی عرب ملکوں کے اسرائیل کے ساتھ کھلے یا ڈھکے چھپے تعلقات ہیں، اسرائیل ایک انمٹ حقیقت ہے، پاکستان کو بھی اسرائیل کے بارے میں مؤقف میں تبدیلی لانا ہوگی۔پرویز مشرف نے اسٹیبلشمنٹ میں پائی جانے والی سوچ کی عکاسی کی تھی۔ اب دوبارہ بحث چھڑی ہے تو شاہ محمود قریشی نے بھی حصہ ڈالا اور کہا کہ عرب امارات کو اپنے قومی مفادات میں فیصلوں کا اختیار ہے، بین الاقوامی تعلقات مذہب سے بالاتر ہوتے ہیں۔ فواد چوہدری نے بھی ٹویٹر بھی ایسا ہی ایک مضمون باندھا۔ عرب دوستوں کی آمد مشرق وسطیٰ میں تبدیل ہوتے اسٹریٹیجک مفادات کے پیش نظر تھی۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال بھی ان اسٹریٹیجک مفادات میں اہم ہے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان تو پہلے سے ہی عوامی

جذبات ماپنے پر کام شروع کرچکے ہیں۔ پچھلے سال اٹلانٹک میگزین سے انٹرویو میں سعودی ولی عہد نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے کئی مشترکہ مفادات ہیں اور اگر خطے میں امن ہوجائے تو اسرائیل اور خلیج تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے بھی مفادات مشترک ہوجائیں گے۔اس سال فروری میں وارسا میں ہونے والی مشرق وسطیٰ کانفرنس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو شریک ہوئے۔ اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں بحرین اور امارات کے وزرائے خارجہ اسرائیل کی بقا اور اس کے دفاع کے حق میں دلائل دیتے رہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر نے اس گفتگو کی ویڈیو لیک کردی تھی۔ یہ اجلاس بھی عرب ملکوں اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی گرم جوشی کی ایک عمدہ مثال ہے۔عرب امارات، بحرین اور عمان اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کھل کر سامنے آچکے ہیں۔ سعودی عرب نے بھارتی ایئرلائن کو اسرائیل کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے کر صاف اشارہ دیا ہے۔ مئی میں سعودی عرب نے اسرائیلی عربوں کو سعودی عرب میں قیام اور روزگار کے منصوبے کی منظوری دی۔ اسرائیلی تاجروں کو خصوصی پرمٹ دیے جا رہے ہیں جس کے بعد انہیں پاسپورٹ دکھائے بغیر سعودی عرب داخلے کی اجازت ہوگی۔سعودی عرب اسرائیل سے گیس کی درآمد کے لیے پائپ لائن منصوبے پر مذاکرات کرچکا ہے۔ یہ پائپ لائن اسرائیل کے بحیرہ احمر پر واقع ساحلی شہر ایلات سے سعودی عرب تک بچھائی جائے گی جو اردن کی خلیج عقبہ سے صرف 40 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسرائیلی سمندری حدود میں 10 سال پہلے گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے لیکن 80 فیصد گیس کا کوئی خریدار نہ ملنے پر یہ ذخائر بے مصرف پڑے ہیں۔ سعودی عرب سستی بجلی کی بڑھتی مانگ کے لیے اس گیس کا بڑا خریدار بن سکتا ہے۔ پھر اسی راستے تیل پائپ لائن بچھا کر سعودی عرب آبنائے ہرمز کا خطرناک راستہ ترک کرکے یورپی ملکوں کو تیل محفوظ اور مختصر راستے سے سپلائی کرسکتا ہے۔اسرائیلی انتخابی نتائج کے بعد فلسطین امن منصوبے کو زبردستی تھوپ کر اسرائیل سے تعلقات کا جواز پیدا کیا جاسکتا ہے۔ اس پر کام شروع کردیا گیا ہے اور کئی مسلم ممالک مربوط ڈھنگ سے ایک ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے اعلان کرسکتے ہیں۔ اگرچہ امن منصوبے کی کامیابی پر ابھی تک شبہات موجود ہیں لیکن امکانات کا وسیع تر جائزہ شروع کیا جاچکا ہے۔