Categories
آرٹیکلز

عبدالقادر آج ہم میں موجود نہیں مگر چند روز قبل وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور عمران خان کے حوالے سے ایک تقریب میں کیا کہہ رہے تھے ؟ آپ بھی جانیے

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان کے مایہ ناز سابق لیگ اسپنر اور گگلی ماسٹر عبدالقادر اب ہم میں نہیں رہے پاکستان کے مایہ ناز کرکٹر عبدالقادر انتقال کر گئے۔ وہ کردار اور گفتار کے غازی تھے، جذبہ شہادت سے بھی سرشار تھے۔ وزیراعظم عمران خان سے ان کی محبت غیر مشروط تھی۔ چند روز قبل وہ کسی تقریب میں تھے وہاں انہوں نے


میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے نامور کالم نگار محمد اکرم چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عمران خان کو شیر اور بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو بکری قرار دیا وہ کہہ رہے تھے عمران خان اور مودی کا کوئی مقابلہ نہیں۔ عمران خان سب کچھ کر سکتا ہے۔ میں نے اس جیسا بہادر شخص نہیں دیکھا۔ عبدالقادر کہہ رہے تھے کہ یہ قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ افواج پاکستان کشمیری بھائیوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کے لیے ہر راستہ اختیار کریں گی۔کیا نفیس انسان تھے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ جتنی محبت انہوں نے لوگوں سے کی تھی ان کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے پرستار اسے لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سارا دن عبدالقادر کے انتقال کی کوریج دیکھتے رہے۔ لکھنے سے پہلے خیال آیا کہ عبدالقادر کے حافظ محمد عمران سے بہت اچھے تعلقات تھے ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس حوالے سے کیا کہتے ہیں۔ حافظ عمران کو فون کیا تو بتانے لگے کہ چند روز قبل ہی ان سے مل کر آیا ہوں۔ عبدالقادر تو مجاہد کے روپ میں تھے۔ کشمیریوں کے لیے بہت دکھ تھا، بہت کرب اور تکلیف محسوس کر رہے تھے۔عبدالقادر سمجھتے تھے کہ وزیراعظم عمران خان کو بھارت کے ساتھ بات کرتے ہوئے نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ وہ کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں تو ہمیں دو قدم آگے بڑھنے کی

 

کیا ضرورت ہے۔ ہمیں ان کا راستہ روکنا چاہیے۔ کہنے لگے مجھے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور بہت پسند ہیں۔ کمال گفتگو کرتے ہیں۔ بالخصوص بھارت کو جواب دیتے ہوئے تو ایک ایک لفظ بہت بامعنی اور باوزن ہوتا ہے۔ آئی ایس پی آر کو چاہیے کہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی پوری ویڈیو بنائے اور اس ویڈیو کو ساری دنیا میں بھیجا جائے تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ بھارت کشمیر میں کتنا ظلم و ستم کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں پیش کریں، او آئی سی کو یہ سی ڈی بھجوائیں۔ دنیا خود دیکھے کہ اگر یہ ظلم ان کے اپنے شہریوں پر ہو تو ان کا ردعمل کیا ہو گا۔یہ ظلم ان کے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ ہو تو کیا وہ خاموش رہیں گے۔ ہم نے سوال کیا کہ وہ وزیر اعظم کی کشمیر پالیسی پر خوش تھے تو حافظ عمران نے بتایا کہ عمران خان دنیا کو واضح الفاظ میں بتا رہے ہیں کہ مودی دور حاضر کا ہٹلر ہے۔ وہ مسلمانوں کو ہدف بنا کر ختم کر رہا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات کا پرچار کر رہا ہے۔ عمران خان ایٹمی ملک کا وزیراعظم ہے وہ اپنے خیالات اور بھارت کی پرتشدد کارروائیوں کے بارے دنیا کو بتا رہا ہے یہ سب ٹھیک ہے لیکن اسے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ میں بھارت کی طرف دو قدم جاؤں گا جب نریندرا مودی ظلم و بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے تو ہمیں بھی بات چیت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ باقی کھیلوں کی

 

باتیں اپنے کالم میں لکھوں گا اچھا کیا آپ نے فون کر لیا عمران خان کے دیرینہ دوست اورافواج پاکستان تک بھی عبدالقادر کا پیغام پہنچ جائے گا۔ عبدالقادر ہم میں نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے حضور کشمیریوں کی آزادی کی دعا لے کر خود ہی پہنچ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول اور خواہش پوری کرے۔ وزیراعظم عمران خان مسئلہ کشمیر کو حل کریں اور اگر کوئی غیر معمولی صورتحال ہوتی ہے تو افواج پاکستان اور پاکستانی قوم مل کر نریندرا مودی اور اسکی ظالم افواج کو شکست دے کر کشمیریوں کو آزاد کروائے۔اس وقت یہ سب سے اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان تاریخ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کا کھانا پینا، ادویات، تعلیم، ہسپتال، رابطے کے ذرائع بند کر دیے ہیں۔ گھومنے پھرنے کی آزادی ختم کر دی ہے۔ کشمیریوں کو گرفتار کر کے بھارتی جیلوں میں بھیجا جا رہا ہے۔ کشمیر کی حوالاتوں میں جگہ کم پڑ گئی ہے۔ ان حالات میں عالمی طاقتوں اور اہم ممالک نے توجہ نہ دی اور اپنا کردار ادا نہ کیا تو خطے میں تباہی کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ اگر کشمیریوں کے ساتھ یہی برتاؤ رکھا گیا تو پھر دونوں ممالک کے کروڑوں انسانوں کو بھی ا ن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن سے ان دنوں کشمیری گذر رہے ہیں۔ وزیراعظم بار بار اس اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ دلا رہے ہیں۔ افواج پاکستان کی طرف سے بھی اس عزم کا اظہار بارہا کیا جا چکا ہے کہ

 

کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو ٹوک اور واضح الفاظ میں کہا ہے کہ کشمیر تکمیل پاکستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک فرض ادا کریں گے۔ یہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے سپہ سالار کے الفاظ ہیں۔ اس کا مطلب بہت واضح ہے۔ اس میں کہیں ابہام یا جھول نہیں ہے۔ اسکا مطلب ہے کہ ہم اپنے موقف پر سختی سے قائم ہیں۔ بھارت کی طرف سے کشمیر کی حیثیت بدلنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔اسکا یہ بھی مطلب ہے کہ تین سو ستر کا خاتمہ ہماری کشمیر سے وابستگی کو ختم نہیں کر سکتا۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ دنیا جان لے ہماری کشمیر کے ساتھ وابستگی کا پیمانہ کیا ہے۔ ہم کس حد تک کشمیر اور کشمیریوں کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ اس لیے اب دنیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ احساس کرے۔ پاکستان کو بند گلی میں دھکیلا گیا تو اس کا نقصان سب کو ہو گا۔ اگر کشمیر میں بھارتی مظالم، ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہ روکی گئی تو اسکا نقصان سب کو اٹھانا پڑے گا۔ کیا عبدالقادر کے خیالات کسی فوجی سے کم ہیں، تریسٹھ برس کی عمرمیں بھی وہ کشمیریوں کی مدد کا جذبہ رکھتے تھے۔ آج قوم کو اسی جذبے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ قوم متحد ہے، وزیراعظم اپنے مشن سے جڑے ہوئے ہیں اور کامیابی کے لیے پرعزم ہیں۔ افواج پاکستان قوم کی توقعات پر پورا اترے گی۔ بھارت کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جائیں گے اور سب مل کر نعرہ لگائیں گے۔ پاکستان زندہ باد۔پائندہ باد

Categories
آرٹیکلز

پاکستانیوں نے عمران خان سے محبت اور وفاداری کا حق ادا کر دیا ، خبر کی تفصیلات آپ کا بھی دل خوش کر دیں گی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم پاکستان عمران خاں جن کا شمار دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں ہوتا ہے جس کا اعتراف دنیا بھر کے تجزیہ کار متعدد بار کر چکے ہیں پاکستانی عوام بھی خواہ وہ دنیا کے کسی ملک میں بھی مقیم ہیں اُنہوں نے ہر مشکل وقت میں اپنے پسندیدہ لیڈر وزیر اعظم عمران خاں کی آواز پر


لبیک کہا ہے . ایک نعرہ پہلے سے مقبول ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان کشمیر تو انشا اللہ پاکستان بنے گا اور ان دنوں بن ہی گیا مگر ہر طرف کشمیر کشمیر ہو رہا ہے۔ جمعرات کے دن جب عمران خان نے کہا تھا 12 بجے کے بعد ہر شخص اپنے اپنے گھر سے باہر نکل آیا ، نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ اس میں خواتین و حضرات کی تخصیص نہیں تھی۔ ہم سب ایوان کارکنان پاکستان میں تھے۔ سب کے سب باہر نکل آئے اور سڑک پر پہنچ گئے۔ کئی لوگوں کے پاس مختلف بینرز تھے۔ سڑک کے دوسری طرف چند معزز خواتین تھیں۔ ہم نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ اس طرح ہمارا مظاہرہ مکمل ہو گیا۔ ہمارے ہمسائے میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل کے چھوٹے بڑے سب ملازمین بھی باہر نکل آئے۔ ہمیں اچھا لگا۔ ان کی آنکھوں میں وطن کی جو محبت تھی بیش بہا تھی۔ ان کے ہاتھوں میں جھنڈ ے تھے جن کی کسک ہمارے بدن میں بھی سرایت کرتی جا رہی تھی۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر بڑے نعرے لگائے۔ ایوان کارکنان پاکستان کے لوگوں کے ہاتھوں میں جھنڈے تھے اور پوسٹر تھے جن پر وطن سے وابستگی کے نعرے لکھے تھے۔ پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر

زندہ باد کے نعرے بھی بڑے جوش و خروش کے ساتھ لگائے جا رہے تھے میں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایسے مظاہرے کبھی نہیں دیکھے۔مجاہد کشمیر اور مجاہد اسلام پروفیسر حافظ سعید سے امریکہ بھارت اور پاکستان تینوں ڈرتے ہیں۔ پاکستان حافظ صاحب کے لیے پریشر برداشت نہیں کر سکتا۔ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکومتیں ذرا سا دبائو برداشت نہیں کرتیں۔ سب سے پہلی بار حافظ صاحب کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ وہ د یہاتی مزاج کے آدمی ہیں۔ ان میں عسکریت پسندی والی کوئی بات نہیں۔ مگر ان کے پاس دل بہت بڑا ہے اور ان کے چہرے پر خوبصورت داڑھی ہے۔ حیرت ہے کہ ایک عام سے شخص سے امریکہ اور بھارت ڈرتا ہے اور پاکستان شاید اس لیے ڈرتا ہے کہ ان سے امریکہ اور بھارت کیوں ڈرتے ہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے ہی کئی شخص تھے جن سے حکمران ڈرتے تھے۔ اصل میں تخت چھن جانے کا اندیشہ بھی تو ایک ہی شخص سے ہوتا ہے۔ مگر جس شخص کے پاس نہ فوج ہو نہ اس سے ملتی جلتی فورس ہو نہ اس نے کبھی تخت نشینی کے شوق میں جنگیں لڑی ہوں، اس سے خوفزدگی کا کیا جواز ہے؟ جو خوفزدہ ہیں وہ جواز سے کچھ زیادہ ہی خوف زدہ ہیں۔ بظاہر وہ اپوزیشن میں

نہیں پھر ان کے پاس کونسی ایسی پوزیشن ہے کہ حکومتیں اپنے مخالفین میں حافظ صاحب کو سب سے زیادہ خطرناک سمجھتی ہیں۔ یہ کوئی اندر کا خوف ہے ورنہ باہر کی صورتحال تو ایسی سنگین بظاہر نظر نہیں آتی۔ کشمیر کے حوالے سے بھی میلہ عمران خان نے لوٹ لیا ہے۔ ہر طرف کشمیر کا نعرہ آزاد کشمیر کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جمعہ کے دن جب عمران خان نے بارہ بجے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی ہدایت کی تو سب خو اتین و حضرات باہر نکل آئے۔ کئی خواتین نے کچن میں ہانڈی چولھے پر چھوڑ دی۔ کچھ مردوں کو دوسری جوتی پہننے کا خیال نہ آیا۔ سارے پاکستانی خواتین و حضرات گھروں سے باہر آ گئے۔ عمران خان کے لیے محبت اور اطاعت کا یہ جذبہ خوش آئند ہے۔ آئندہ کوئی اور بات عمران خان نے کہی تو اس پر بھی عمل ہو گا۔ جنگی محاذ پر پہنچنے کی ہدایت کے مطابق کام بھی ہو گا۔ عمران خان نے اپنی کریڈیبلٹی ثابت کر دی ہے۔ لوگوں کا یقین بحال کیا ہے بلکہ اسے یقین محکم بنا دیا ہے۔ لگتا ہے کہ اب وہ جو کہے گا لوگ اس پر پورا پورا عمل کریں گے۔پہلے اعتراض یہ تھا کہ عمران خان کے دوست اس جیسے نہیں ہیں۔ اس کی ٹیم اچھی نہیں ہے۔ اس کے ساتھ لوگ مکمل طور پر

اس کا ساتھ نہیں دے رہے مگر اب تو ڈاکٹر بابر اعوان جیسے لوگ اس کے ساتھ دل و جان سے ہیں۔ امید ہے کہ اب جو امید یں لوگ عمران خان سے رکھتے ہیں وہ ضرور پوری ہونگی۔ جن مشکلات کا لوگوں کو سامنا ہے اور جو مسائل انہیں درپیش ہیں ان کا عمران خاں کو علم ہے اور احساس بھی ہے اور یہ عزم بھی ہے کہ وہ ان سب باتوں سے نبردآزما ہونگے۔ سب سے بڑی بات مہنگائی کی ہے ، یہ مہنگائی اس دور کی نہیں ہے۔ اس میں پچھلے کئی ادوار کا حصہ شامل ہے مگر ایسا انتظام کیا جا رہا ہے، ایسے اہتمام حکومت کے سامنے ہیں کہ سب مسائل پر قابو پا لیا جائے گا۔ ویسے بھی یہ درست نہیں ہے کہ حکومت کی ڈیڑھ سال کی کارکردگی کو پانچ سالہ کارکردگی کے ساتھ پرکھا جائے۔ البتہ آئندہ کچھ عرصے میں حیرت انگیز تبدیلیاں نظر آئینگی اور مخالفین نے تبدیلی کے لفظ کا جس طرح مذاق بنا لیا ہے حیران رہ جائیں گے۔ انہیں بھی تبدیلی کے لفظ پر یقین آ جائے گا۔ اس سے پہلے بھی عمران خان کی قسمت پر کئی حیران کُن باتیں موجود ہیں اور لوگوں کی یاد میں تو اب جو کچھ ہو گا۔ وہ بھی انہیں یاد رہے گا۔ بس وہ اتنا کریں کہ عمران پر وہی اعتماد رکھیں جو پہلے رکھتے تھے اور تھوڑا انتظار کریں۔ ہماری قوم کو انتظار کرنا نہیں آتا ، صرف انتشار کرنا آتا ہے۔ میں تو کہتا ہوں کہ انتظار کریں اور اعتبار بھی کریں۔ اعتبار کے بغیر انتظار بے معنی ہے اعتبار کریں اور انتظار کریں۔انشاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

Categories
آرٹیکلز

عمران خان لڑنا بھی جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ قوم اسکے ساتھ کھڑی ہے ، جلد وہ پوری دنیا کو کیا سرپرائز دینے والا ہے ؟ سینئر پاکستانی صحافی نے پیشگوئی کر دی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت معاشی چیلنجزز سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے ملکی حالات آہستہ آہستہ بہتری کی جانب گامزن ہیں اسی طرح پاکستان کے حکمران عمران خان دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز بنے ہوئے ہیں اور کشمیر کے مسئلے پردنیا کے مردہ ضمیر کو جگانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ عمران خان

کشمیر کے سفیر کا کردار بھر پور طریقے سے ادا کر رہے ہیں۔انھوں نے نیویارک ٹائم میں اپنے ایک مضمون میں نامور کالم نگار عبدالقادر حسن اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے مسئلہ پر دنیا کی طاقتوں نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو کشمیر پر جنگ کے اثرات سے وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ یعنی کشمیر پر ایٹمی جنگ کی صورت میں اس خطے میں جو تباہی آئے گی اس کے بعد کسی بھی ملک کابھارت کے ساتھ تجارتی مفاد اپنی موت آپ مر جائے گا۔ یعنی اس وقت جو ممالک اپنے تجارتی مفاد کو سامنے رکھ کر بھارتی خوشنودی کے لیے کشمیری مسلمانوں کی حمائت سے گریز کر رہے ہیں وہ اس جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہیں گے۔عمران خان نہایت دانشمندی سے کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ،وہ بے حوصلہ نہیں ہیں، وہ لڑنا جانتے ہیں، ان کے پیچھے پوری پاکستانی قوم یک زبان ہو کر کھڑی ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس کے سہارے پاکستان کی حکومت کشمیر پر اپنا واضح موقف دنیا بھر کے سامنے ڈٹ کر پیش کر رہی ہے۔ یکجہتی کشمیر کے موقع پر پاکستان بھر میں قوم والہانہ وار کشمیریوں کے حمائت میں جس طرح باہر نکلی ہے اس سے

حکومت کے اس موقف کو مزید تقویت ملی ہے کہ پاکستانی قوم مشکل کی اس گھڑی میں اپنی حکومت کے ساتھ ہے۔برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ میں مسلمانوں اور ہندوئوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں مسلمان سات آٹھ سو برس کی حکمرانی کے بعد زوال پذیر ہوئے تو وہ اپنے سے طاقت ور انگریزوں کے غلام تو بن گئے مگر انھوں نے یہ غلامی دل سے کبھی قبول نہ کی۔ اس دور کے علماء اور مسلم مفکرین نے برطانوی سامراج کے خلاف جدو جہد کی اور دنیا بھر میں جہاں بھی مسلمانوں کو غیر مسلموں کے ہاتھوں تکلیف پہنچی، ان غلام مسلمانوں نے ان کی عملی مدد میں کوتاہی نہیں کی۔ لیکن آج ماضی کے غلام مسلمان اپنے سے امیر اور آزاد مسلمانوں کی جانب سے ہمدردی کے چند لفظوں کو ترس رہے ہیں۔سیاست کے ساتھ اسلامی علوم میں جو تحقیق ہندوستان میں کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ہندوستان کے مسلمان علماء اور محققین کو اسلامی دنیا نے تسلیم کیا اور ایک ضرب المثل دنیا میں مشہور ہوئی کہ قرآن عرب میں نازل ہوا، مصر میں پڑھا گیا ، استنبول میں لکھا گیا اور ہند میں سمجھا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی اسلامی اور قرآنی علوم سے آشنائی پر اس سے بڑا خراج تحسین اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہند کے مسلمان

غلام ضرور تھے مگر بے حد جاندار، غلامی ان کے اندر سے اسلامی احساس اور حمیت کا جوہر ختم نہ کر سکی چنانچہ پوری اسلامی دنیا کسی مادی امداد یا دینی فہم کے لیے ہند کے مسلمانوں کی طرف دیکھتی رہی ۔جب ان مسلمانوں نے اپنا آزاد ملک قائم کیا تو دنیا میں اس اسلامی نظریاتی ملک کا اس قدر غلغلہ برپا ہوا کہ مصر کے شاہ فاروق نے طنزاً اور حسداً کہا کہ اسلام تو 1947 میں نازل ہوا ہے لیکن پوری اسلامی دنیا کے عوام نے پاکستان کے قیام کا زبردست جذباتی اور مخلصانہ خیر مقدم کیا اور اس ملک کو اپنا بازوئے شمشیر زن سمجھا۔ اپنے قیام کے پچاس برس بعد اس اسلامی نظریاتی ملک نے ایٹم بم بنا کر مسلمانوں کی ان امیدوں کو پورا بھی کر دیا ۔ایک طرف تو اسلامی دنیا پاکستانیوں کی طرف مڑ مڑ کردیکھتی تھی لیکن دوسری طرف اس اسلامی پاکستان کی قیادت ان لوگوں کے ہاتھ میں آگئی جن کا ناموں کے سوا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ انگریزوں نے تو انھیں آزاد کر دیا تھا مگر انھوں نے آزاد ہونے سے انکار کر دیا تھا اور انگریز کے پروردہ اور ان کی باقیات پاکستان کے حکمران بن گئے۔ اس قماش کے لیڈروں کے تحت پاکستان کیا کوئی آزاد اسلامی ملک بن سکتا تھا، بلکہ یہ

ملک تو اپنی جغرافیائی وحدت بھی برقرار اور قائم نہ رکھ سکا۔ ان لوگوں نے پاکستان کی جو گت بنائی اس کو دیکھتے ہوئے آج ڈر لگتا ہے۔دیار ہند کے مسلمان حیرت انگیز حد تک ایک جاندار قوم ہیں ان کی بڑی تعداد ہندوئوں کے ہندوستان میں ہے لیکن کشمیر میں بھارت کے خلاف باقاعدہ جنگ لڑ رہی ہے ۔ بنگلہ دیش جسے ہندوستان نے آزادی دلائی تھی اپنی علیحدگی کے بعد پاکستان کے حکمرانوں اور بھارت کی قوم سے نفرت کرنے لگا اور باقی ماندہ پاکستان نے بخدا روسی سامراج کے خلاف ایسی جنگ لڑی کہ اسے پسپا ہوتے ہوئے سامراج کو ماسکو میں بھی پناہ نہ ملی اور یہ سلطنت تاریخ کی قبر میں دفن ہو گئی۔ایسا تماشہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک ہی نسل نے یہ سلطنت بنتی اور پھر ختم ہوتے ہوئے دیکھ لی ۔ پاکستانیوں اور افغانوں کا یہ مشترکہ کارنامہ اتنا حیران کن تھا کہ مادی اعتبار سے کمزور پاکستان اور افغانستان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پاکستانی تو آج تک اس کارنامے کو اپناتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ احساس کمتری انھیں پریشان رکھتا ہے۔پاکستان کے اندر آزادی کے بعد عوام اور حکمران طبقے میں جنگ شروع ہو گئی ۔ حکمرانوں کا چونکہ عوام سے کوئی تعلق نہیں رہا اس لیے اس ملک کے استحکام کی کوئی

سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ لیکن اس کے باوجود عوام کے اندر ایک غیرت مند زندگی باقی رہی۔ پاکستان کے بقاء کی ضمانت ایٹمی پروگرام کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کی جانب سے کئی حربے استعمال کیے گئے لیکن یہ غیرت مند قوم ہمیشہ ان عالمی طاقتوں کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔ اس لیے کہ یہ قوم زندہ ہے اسی طرح پاکستانی قوم مرتے مر جائے گی مگر بھارت کی بالادستی قبول نہیں کرے گی۔بھارتی بالا دستی قبول کرنے والے ماضی کے حکمرانوں نے طاقتور ملک کو کمزور بنانے کی کوشش کی ۔ یہ ملک غریب نہیں تھا اسے لوٹ مار کر کے غریب بنا دیااور یہ سب کچھ غلط رو قیادت نے کیا ہے ۔ یہ قوم ایک اچھی اور سچی قیادت کی منتظر ہے جس دن اس زندہ قوم کو صحیح قیادت مل گئی یہ نہ کمزور رہے گی اور نہ غریب رہے گی اسے اپنا تعارف بھی مل جائے اور اپنی شناخت بھی اور پھر کسی بھارت کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ وہ دن دہاڑے کشمیر پر قبضہ کرے اور کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، زندہ اور جاندار قوم نے کشمیر کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے ۔انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر آزاد ہو گا.

Categories
آرٹیکلز

تحریک انصاف یا مسلم لیگ (ن) ۔۔۔؟ سارے حالات اور واقعات دیکھ کر میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگلے الیکشن میں پنجاب میں یہ جماعت آسانی سے بازی جیت لے گی ۔۔۔ سہیل وڑائچ کی تہلکہ خیز پیشگوئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک سال گزر چکا ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ وہ تب بھی طاقتور تھا وہ آج بھی طاقتور ہے۔ وہ کھیل کے شعبے میں تھا تو اس پر راج کرتا تھا، سیاست کے شعبے میں آیا تب بھی راج کرتا ہے۔ کھیل میں تھا تب بھی

اس کا فیصلہ حرفِ آخر ہوتا تھا، سیاست میں بھی وہ جو کہہ دے اسے سب کو ماننا پڑتا ہے۔ نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کرکٹ میں تھا تو سب سمجھاتے تھے کہ منصور اختر نہیں چل پائے گا مگر وہ کہتا تھا نہیں، اس کا بلا سیدھا ہے، اس سے اچھی کور ڈرائیو کوئی نہیں کرتا، اسے کھلائو، یہ ہر صورت کھیلے گا۔ سب کو منصور اختر کو کھلانا پڑتا، وہ کھیلتا رہا مگر چمک نہ سکا اور پھر رفتہ رفتہ غروب ہوگیا۔ کہتے ہیں پرانی عادتیں مشکل سے جاتی ہیں، یہی چلن سیاست میں جاری ہے۔ ہر کوئی کہتا یہ وسم اکرم پلس نہیں، منصور اختر ہے۔ وہ کہتا ہے نہیں، یہ صاف شفاف ہے، سادہ ہے، پسماندہ علاقے سے تعلق رکھتا ہے، تابع فرمان ہے، یہ چمکے گا، یہ وسیم اکرم کی طرح چھائے گا مگر ابھی تک وہ منصور اختر بنا ہوا ہے۔ دیکھیں فیصلہ کرنے والا سوچ بدلتا ہے یا پھر منصور اختر گھر جاتا ہے۔ سیاسی منصور اختر ملنے جلنے میں بہت اچھا ہے مگر گورننس پر سوالیہ نشان ہے۔ ایک سال سے کم عرصے میں ایک صوبائی محکمے کے 10سیکرٹری بدل چکے ہیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک میں ایک سال میں 3سیکرٹری آچکے ہیں۔ 2ماہ میں ایک ڈپٹی کمشنر کے 3تبادلے ہوئے، اکھاڑ پچھاڑ کا

تماشا لگا ہوا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ اور اوکاڑہ پر پنجاب سیکرٹریٹ کا حکم نہیں چلتا بلکہ وہاں روحانیت کے ہالے قائم ہیں جن پر کسی اور کا بس نہیں چلتا۔ سیاسی منصور اختر اپنے لیڈر سے ہر ملاقات میں وعدہ کرتا ہے کہ جلد ہی سب ٹھیک ہو جائے گا مگر یہاں آکر پروٹوکول کی تام جھام میں کھو جاتا ہے۔ ابھی پی ٹی آئی کے ورکرز کو ایڈجسٹ کرنے کے حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں، زکوٰۃ کمیٹیاں اور بے شمار سیاسی اسامیاں خالی ہیں لیکن ان پر کسی کی تعیناتی نہیں کی جا رہی۔ بلدیاتی ادارے توڑ دیئے گئے، ان کے کروڑوں کے فنڈز نوکر شاہی کے پاس ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ان فنڈز سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں دیا جا رہا۔ وفاقی وزرا، ارکانِ اسمبلی اور لیڈروں کو شکایت ہے کہ ان کے علاقوں میں ان کی مرضی کے افسر تعینات نہیں کئے جا رہے ہیں جبکہ جنوبی پنجاب میں ہر رکن صوبائی اسمبلی کو اپنی مرضی کے ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز دیئے گئے ہیں۔ لامتناہی کہانیاں ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ منصور اختر ہی کھیلے گا، یہی وسیم اکرم پلس ہے۔ وہ بڑی آن اور شان والا ہے، اپنی اّنا پر آنچ نہیں آنے دیتا، کرکٹ میں تھا تب بھی اسی کے فیصلے چلتے تھے، سلیکشن کمیٹی اور بورڈ جو

مرضی کہتے رہیں، چلتی اسی کی تھی۔ اسی لئے منصور اختر نے 19ٹیسٹ میچ کھیلے، 25رنز کی اوسط رہی۔ اس سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہ ہو سکیں اور یوں بالآخر وہ غروب ہوا۔ اب وہ سیاست میں ہے، یہاں بھی اس نے نئے منصور اختر سے امیدیں لگا لی ہیں۔ ایجنسیاں، ادارے اور شخصیات سب اس کے بارے میں رپورٹس دے چکے ہیں، بڑے صاحب بھی مطمئن نہیں مگر وہ نہیں مانتا۔ اپنی اّنا پر آنچ کیسے آنے دے؟پی ٹی آئی حکومت کا پنجاب میں ایک سال گزر گیا۔ 40سال کے طویل عرصے کے بعد صوبے میں شریف خاندان کی مخالف حکومت آئی تھی، اس کو سیاسی حقائق بدلنے تھے مگر ایک سال میں نون لیگ کا ایک بھی ووٹ توڑا نہیں جا سکا، تکالیف کا شکار ہونے اور جیلوں میں بند ہونے کے باوجود نون لیگ کا ووٹ بینک برقرار رہنا دراصل پنجاب حکومت کی سیاسی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک سال کے اندر نئے بلدیاتی انتخابات کروا کے گراس روٹ پر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی جا سکتی تھی مگر یہ منصوبہ بندی کون کرے؟ پنجاب کے شہری مراکز یعنی لاہور، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ جہاں نون لیگ کی اصل طاقت ہے ، وہاں سرے سے کوئی سیاست ہی نہیں کی جارہی۔ ان شہروں میں

نون لیگ کی اصل طاقت مڈل کلاس تاجر ہیں، حکومت انہیں ناراض کرنے میں کوئی کسر چھوڑ نہیں رہی۔ تعلیم، صحت اور روزگار کے حوالے سے پنجاب حکومت نے کوئی بھی ایسا منصوبہ نہیں بنایا جو مقبولِ عام ہوا ہو۔ زمینداروں اور کاشت کاروں کو نون لیگ سے ہمیشہ شکایت رہی کہ وہ کسان دوست پالیسیاں نہیں بناتے، تحریک انصاف کے لئے سنہری موقع تھا کہ وہ کاشتکاروں کے دل جیت لیتی، کسان دوست پالیسیاں بناتی اور نون لیگ کا ووٹ بینک توڑ لیتی مگر اس طرف سوچا ہی نہیں گیا۔ وقت کے ساتھ جو تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے وہ محروم طبقات میں عمران کی مقبولیت ہے۔ کسی زمانے میں پنجاب کا یہ طبقہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تھا لیکن اب اس کا رجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے۔ یہ انتہائی وفادار ووٹ بینک ہے مگر پنجاب حکومت نے تاحال اس کو کوئی سہولت دینے کے بارے میں سوچا تک نہیں۔ کل کو جب آئندہ انتخابات ہوں گے تو پنجاب میں مقابلہ نون لیگ اور تحریک انصاف میں ہوگا، پیپلز پارٹی تاحال پنجاب میں اپنے قدم نہیں جما سکی۔ نون لیگ کی لیڈر شپ مطمئن ہے کہ اس کا ووٹ بینک برقرار ہے اور پی ٹی آئی کی معاشی پالیسیاں

نون لیگ کے ووٹ بینک کو اور مضبوط کر رہی ہیں۔ متوسط اور تاجر طبقات کو نون لیگ کی معاشی پالیسیاں بڑی راس آئی تھیں اور پچھلے تیس سال میں تاجروں کے معاشی مفادات میں بے پناہ اضافہ ہوا تھا اس لئے انہیں اپنے معاشی مفادات پر پی ٹی آئی کی ٹیکس تلوار پسند نہیں آرہی اور وہ اپنے بزنس کو سکیڑ کر بیٹھ گئے ہیں جس کا ملک پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ نون لیگ اور شہباز شریف کا طرزِ حکمرانی نوکر شاہی کو ساتھ ملا کر چلنے کا تھا، پنجاب حکومت ابھی تک گورننس کا کوئی بھی ماڈل طے نہیں کر سکی، آدھا تیتر، آدھا بٹیر چل رہا ہے۔ طوائف الملوکی کی سی صورت حال ہے، طاقت کے مراکز بنی گالا سے لے کر لاٹ صاحب تک پھیلے ہوئے ہیں، بڑی بڑی شخصیات اور ناموں والے تو اپنے کام نکلوا رہے ہیں مگر غریب کارکن کی کوئی شنوائی نہیں۔وقت گزر رہا ہے، گزرتا جائے گا، سال ہوگیا وہ منصور اختر کو ہی کھیلائے گا اور اس کے اندر وہ خوبیاں ڈھونڈے گا جو کسی اور کو نظر نہیں آ رہیں۔ کرکٹ کا منصور اختر تو خاموشی سے غروب ہوگیا، سیاسی منصور اختر ناکام ہوا تو اپنے محسن کو بھی غروب کر جائے گا۔

Categories
آرٹیکلز

پڑھئے ایک شاندار تحریر جو آپ کا خون گرما دے گی

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) خصوصی انتخاب… شیر سلطان ملک ، 6 ستمبر ہم نے دفاع وطن میں جان سے گزر جانے والے سپوتوں کو یاد کیا۔ تو آئیے وطن کے ان بیٹوں کو بھی یاد کر لیں جو غیر مسلم تھے مگر مادر وطن پر قربان ہو گئے۔ پانڈو کے محاذ پر ہونے والی لڑائی کا تذکرہ تو ہم نے سن رکھا ہے اس پر

نامور کالم نگار آصف محمود اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔کل پترا کی پہاڑی فتح کرتے ہوئے کیپٹن سرور شہید ہوئے تھے اور انہیں پاکستان کا پہلا نشانِ حیدر ملا تھا۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے اس پہاڑی پر پاکستان کا پرچم لہرانے کا اعزاز کسے حاصل ہوا تھا؟ لانس نائیک یعقوب مسیح کو۔ گولیوں سے ان کا وجود چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس نے گھائل وجود کے ساتھ پانڈو ٹاپ پر سبز ہلالی پرچم لہرایا او رپھر اس پرچم کے سائے میں جان قربان کر دی۔یہ لانس نائیک یعقوب مسیح بھی ہمارے ہیرو ہیں۔ سکواڈرن لیڈر پیٹر چشتی 65ء کی جنگ میں شریک رہے ۔ جب 71 ء کی جنگ شروع ہوئی تو پیٹر چشتی ڈیپوٹیشن پر پی آئی اے میں کام کر رہے تھے۔چھوڑ کر واپس آ گئے۔ کراچی پر دشمن کے حملے کا خطرہ تھا۔ اسے روکنا ضروری تھا۔ بیس کمانڈر ایئر کموڈور نذیر لطیف بھی مسیحی تھے۔ ( انہیں 65 کی جنگ میں تمغہ جرات عطا کیا گیا اور 71 کی جنگ میں انہیں ستاہ جرات سے نوازا گیا)۔انہوں نے کہا دشمن کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ جام نگر ایئر پورٹ کو تباہ کر دیا جائے لیکن یہ مارو اور مر جائو مشن ہو گا اور واپسی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کون جائے گا؟ پیٹر چشتی نے کہا اس دن کا تو

انتظار تھا، میں جائوں گا۔اسی مشن کے دوران پیٹر چشتی وطن پر قربان ہو گئے۔ ونگ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ 65 کی جنگ میں فلائٹ لیفٹیننٹ کے طور پر کراچی میں تعینات تھے۔دشمن نے کراچی پر حملہ کیا تو انہوں نے بھارت کے دو جہاز مار گرائے۔انہیں شہریوں کی جانب سے ’ کراچی کے محافظ ‘ کا خطاب کیا گیا۔انہیں دو مرتبہ ستارہ جرات عطا کیا گیا۔اتفاق دیکھیے 1965ء کی جنگ میں جس مشن پر سکوڈرن لیڈر پیٹر چشتی قربان ہوئے 1971ء میں پھر وہی مشن درپیش تھا۔ جام نگر کے ایئر پورٹ پر حملہ کرنا تھا اور جس نے جانا تھا یہ سوچ کر جانا تھا کہ مشن سے واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ۔ اس دفعہ کمانڈر مارون لیزلے مڈل کوٹ نے مادر وطن کے لیے لبیک کہا اور خود کو والنٹئر کیا حالانکہ وہ ایک ہی دن پہلے اردن سے لوٹے تھے۔ کامیاب حملے کے بعد واپسی پر بھارت کے مگ طیاروں نے ان پر حملہ کر دیا، ان پر میزائل فائر ہوئے۔ایک میزائل جہاز کو آ لگا۔ پاکستان کا ایک اور بیٹا پاکستان پر قربان ہو گیا۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف عربوں کی جنگ میں بھی حصہ لیا اور اردن کے شاہ حسین ان کے بہت معترف تھے۔شاہ حسین نے باقاعدہ درخواست کی تھی کہ کمانڈر مڈل کوٹ کے جسد خاکی کو تو

آپ پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کریں گے لیکن ہماری درخواست ہے کمانڈر کے سر کے نیچے اردن کا قومی پرچم بھی رکھ دیجیے۔ یہ ایک عظیم کمانڈر کو ہمارا خراج عقیدت ہو گا ۔لیکن شاہ حسین کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔سکواڈرن لیڈرر پیٹر چشتی کی طرح کمانڈر مارون لیزلے کا جسد خاکی بھی نہ مل سکا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ دانیال، مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے تو دانیال نے خود کو ’ والنٹیئر ‘ کیا اور مشرقی پاکستان پہنچ گئے۔13 دسمبر کی صبح ایک مشن سے واپس لوٹ کر ناشتہ کر رہے تھے کہ خبر ملی 31 پنجاب کی پلٹون پر حملہ ہو گیا ہے۔ناشتہ بیچ میں چھوڑ کر دشمن کے گھیرے میں آئے ساتھیوں کو بچانے نکلے اور سینہ چھلنی ہو گیا۔ ہسپتال پہنچے، آپریشن ہوا،سینے سے گولیاں نکالی گئیں ، دانیال نے ڈاکٹر سے کہا یہ گولیاں نہیں یہ سووینئر ہے ، یہ میری ماں کو پہنچا دینا اور خود مادر وطن پر قربان ہو گئے۔کیپٹن میخائل ولسن 1971ئمیں چھمب سیکٹر میں تعینات تھے۔زخمی ہوئے اور جان قربان کر دی۔روایت ہے کہ مادر وطن پر قربان ہوتے وقت بھی وہ اپنے لیے نہیں اپنے وطن کی سلامتی کے لیے پریشان تھے۔ وطن پر قربان ہونے والے ان ہیروز کے ساتھ ساتھ کچھ اور نام بھی ہیں جن کی پاکستان کے لیے

ناقابل فراموش خدمات ہیں۔ سیسل چودھری ہیں جنہیں ستارہ جرات ، تمغہ جرات اور صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا گیا ، میجر جنرل ایرک جی ہال جو وائس چیف آف ایئر سٹاف رہے ۔65 کی جنگ میں ایک موقع وہ بھی آیا جب پاکستان کے پاس جنگی طیارے کم پڑ گئے۔ جنرل ایرک نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا کہ سب حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا ہم سی ون تھرٹی کو بمبار طیارے کے طور پر استعمال کریں گے۔منصوبہ ناقابل عمل تھا کیونکہ سی ون تھرٹی مسافر بردار طیارہ تھا۔ ایرک جی ہال نے منصوبے کو اس شان سے قابل عمل بنایا کہ خود سی ون تھرٹی اڑایا اور جا کر بم پھینک آئے۔انہیں ہلال جرات ، ستارہ جرات اور ہلال امتیاز عطا کیا گیا ۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد پینتالیس کے قریب پولینڈ کے افسران پاکستانی ایئر فورس کی تربیت کے لیے منگوائے گئے۔ ان میں سے ایک ونگ کمانڈر ولا دیسلاو جوزف تورووچ یہیں رک گئے اور پاکستان کے شہری بن گئے۔ ان کی گراں قدر خدمات کے لیے الگ کالم چاہیے۔انہیںستاہ پاکستان ، تمغہ پاکستان ، ستارہ خدمت، ستارہ قائد اعظم ، ستارہ امتیاز، عبد السلام ایوارڈ ان ایرو ناٹیکل انجینئرنگ اور سپیس فزکس میں آئی ٹی سی پی ایوارڈ عطا کیا گیا۔ یہ صرف ایک مذہب کے ماننے والوں کی قربانیوں اور

خدمات کا تذکرہ ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ یہاں بسنے والے ہر مذہب کے ماننے والے مادر وطن پر قربان ہوئے ہیں۔یہ سب ہمارے ہیرو ہیں۔لیکن ہم انہیں بھلاتے جا رہے ہیں۔ یہ ہماری اجتماعی یادداشت سے محو ہوتے جا رہے ہیں۔ہمیں سوچنا ہو گا کہ ایسا کیوں ہے؟ ہمارے نصاب اور ہمارے قومی بیانیے میں نصاب میں پیٹر چشتی اور کمانڈر ویزلے مڈل کوٹ جیسے سرفروشوں کا تذکرہ ضرور ہونا چاہیے۔ جو پاکستان کے لیے اپنی جان پر کھیل گئے ، مطالعہ پاکستان ان کے ذکر کے بغیر کیسے مکمل ہو سکتا ہے

Categories
آرٹیکلز

بھارت کے ساتھ تجارت ، فضائی حدود ، بس سروس، سفارتی تعلقات سب کچھ ختم لیکن عمران خان کرتار پور بارڈر دراصل کیوں کھولنا چاہتے ہیں؟؟؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خاں نہ صرف ایک منجھے ہوئے کھلاڑی تھے بلکہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان بھی ہیں مسئلہ کشمیر پرکشیدگی کے بعد پاکستان اور بھارت کے حکام نے بدھ کے روز پاکستان میں سکھ برادری کی مذہبی مقام کرتارپور صاحب کو کھولنے کے لیے اٹاری واہگہ بارڈر پر ایک رسمی ملاقات کی ہے۔اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے

کرتارپور صاحب کے درشن کرنے والوں کے لیے چند شرائط بھی رکھی ہیں۔ ان شرائط میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے زائرین کےلیے 15 امریکی ڈالر کے لگ بھگ سروس فیس کی ادائیگی جبکہ کرتارپور صاحب میں زائرین کے زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت کے حوالے سے ڈیڈ لائن شامل ہےتاہم انڈین حکام نے ان شرائط ہر اعتراضات اٹھائے ہیں۔انڈین پنجاب کے وزیرِ اعلی کیپٹن ارمیندر سنگھ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے اپنے ایک پیغام میں ان شرائط کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سکھوں کے مذہبی پیشوا گرو نانک دیو جی کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا مطالبہ کرتارپور راہداری کی تعمیر میں رکاوٹیں حائل کرے گا۔انڈین حکام کی جانب سے بتائی گئی تفصیلات کے مطابق تمام زائرین جو کرتارپور صاحب درشن کے لیے جائیں گے ان کی وہاں زیادہ سے زیادہ قیام کی مدت صبح سے لے کر شام تک ہو گی۔تاہم انڈین حکام نے اس شرط کی بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کرتارپور معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔انڈین اور پاکستانی حکام کے درمیان حالیہ ملاقات میں اس حوالے سے اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔کیا یہ اعتراضات

مسئلے کا باعث بنیں گے؟انڈین حکام کی جانب سے پاکستانی شرائط پر اعتراضات کے بعد سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ آیا یہ اس حوالے سے ہونے والی دو طرفہ بات چیت کو متاثر کریں گے۔ سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے لیے کافی اہم ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ ان اعتراضات کے بعد بھی اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ بات چیت تعطل کا شکار ہو جائے گی۔ اگر آپ پاکستان کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو پاکستان بھی اس جاری بات چیت سے اپنی پیٹھ نہیں موڑے گا۔اور انڈیا کی کوشش بھی یہ ہو گی ایسی کوئی صورتحال جنم نہ لے۔دونوں ممالک میں حکام کے لیے پنجاب میں بسنے والے عوام اور ان کے جذبات بہت اہم ہیں۔ پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے ان کے ملک میں بسنے والی سکھ برادری بہت اہمیت کی حامل ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے مگر یہ مسئلہ اس کشیدہ صورتحال کی نظر نہیں ہو گا۔ کیونکہ دونوں ممالک کی حکومتیں اپنی اپنی سکھ برادری کو ناراض کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔عمران خان کے لیے پنجابی عوام اتنی اہم کیوں ہیں؟پاکستان میں عمران خان کی حکومت کے لیے

یہ مسئلہ اس لیے بھی کافی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ پاکستانی معیشت اس وقت انتہائی گراوٹ کا شکار ہے۔اور ایسی معاشی صورتحال میں عمران کی حکومت کی سوچ یہ ہے کہ کرتارپور صاحب کو زائرین کے لیے کھولنے کے باعث امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں بسنے والی سکھ کمیونٹی کے افراد کی آمد و رفت یہاں شروع ہو جائے گی۔پاکستانی حکومت یہ بھی سوچتی ہے کہ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو کرتارپور صاحب کو ایک بین الاقوامی سکھ ٹورازم کے مقام میں بدلا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ کرتارپور صاحب کی انڈیا میں بسنے والے لوگوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت ہے۔ اور جب یہ مسئلہ حل ہو گا تو لازماً وہ یہاں آنا پسند کریں گے۔اسی صورتحال میں حکومتِ پاکستان کے لیے وہ مواقع پیدا ہوں گے کہ وہ کرتارپور صاحب کو اپنی معیشت کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے گی۔ پاکستان میں حکام یہ بھی چاہیں گے کہ انڈیا کی سکھ برادری میں پاکستان کے لیے نرم گوشہ پیدا ہو تاکہ پاکستانی کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی مستقبل میں اس سے مستفید ہو سکے۔ہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث کرتارپور صاحب پاکستان کے لیے بھی

کافی اہم ہے۔وزیر اعظم مودی کے لیے پنجابی کیوں اہم ہیں؟انڈین حکومت کی جانب سے جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے اختتام کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات میں کافی تلخی پیدا ہوئی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تلخی کے اس ماحول میں انڈین حکومت پاکستان کے ساتھ کرتارپور صاحب کے مسئلے پر بات چیت کیوں جاری رکھے ہوئے ہے۔اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ہمیں انڈین پنجاب کی تاریخ پر ایک نظر ڈالنی ہو گی۔انڈین پنجاب نے ماضی میں شدت پسندی کے ایک دور کا سامنا کیا ہے جس میں کافی خون ریزی ہوئی اور ماحول کشیدہ رہا۔پاکستان کی طرف سے انڈین پنجاب میں شدت پسندی کو سپورٹ کیا گیا تھا جبکہ پنجاب میں مسائل کو حل کرنے میں انڈین گورنمنٹ کو کافی مشکلات پیش آئیں تھیں۔ایسی صورتحال میں انڈیا یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی ایسا مسئلہ سر اٹھائے جس کے باعث پاکستان سے دوبارہ انڈین پنجاب میں بسنے والوں کو ورغلانے کی ایسی کوئی کوشش کی جا سکے۔خاص کر ایسے موقع پر جب پہلے ہی انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالات بگڑ رہے ہیں انڈین حکام یہ نہیں چاہیں گے کہ ریاست پنجاب میں کسی ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے۔آئندہ چند روز میں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔انڈین حکومت کا تاثر ہے کہ اس وقت انڈیا میں بسنے والی مذہبی گروپوں میں صرف سکھ وہ کمیونٹی ہے جو انڈیا کی حکومت کو مکمل طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔انڈین حکومت کبھی نہیں چاہے گی کہ کرتارپور کے معاملے پر ایسی صورتحال جنم لے کہ سکھ عوام ناراض ہوں۔کیونکہ اگر انڈیا میں بسنے والی تمام مذہبی گروہ حکومت کے خلاف ہوں گے تو یہ انڈین حکومت کے تشخص کے لیے بہتر نہیں ہو گا۔کرتارپور صاحب کا مسئلہ کب حل ہو گا؟کرتارپور میں واقع گرودوارہ دربار صاحب کا انڈین سرحد سے فاصلہ چند ہی کلومیٹر کا ہے اور یہ پنجاب کے ضلع نارووال کی حدود میں تحصیل شکر گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہےامید ہے کہ یہ مسائل جلد ہی حل ہو جائیں گے۔کیونکہ انڈیا اور پاکستان میں کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا کہ اس حوالے سے ہونے والی بات چیت کو روکنے کا الزام اس کے سر جائے کیونکہ دونوں ممالک کے لیے یہ مسئلہ انتہائی اہم ہے۔اور ایسی صورتحال میں اس مسئلے کے جلد حل ہونے کی امید کافی زیادہ ہے۔جو کہ بہت خش آئند بات ہے.

Categories
آرٹیکلز

اکتوبر میں حملہ ہو گا جس کے بعد پاک فوج کشمیر آزاد کروا کر بھارت کے کس علاقے تک پہنچ جائے گی؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارت کی جانب سے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو کا نفاذ ہے خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے اس کے ردعمل میں پاکستان نے بھارت کے لئے فضائی حدود کی بندش کا اعلان کر دیا ہے اس پر

پاکستان کے معروف کالم نگار و تجزیہ نگار مظہر برلاس کا اپنے حالیہ کالم ” سوا سال ” میں اپنے ایک دوست بودی شاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میں نے ان سے پوچھا کہ شاہ جی مجھے بتائیں مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے۔جس پر انہوں نے بتایا کہ دنیا کا نقشہ تبدیل ہو رہا ہے۔ آنے برس اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے۔حالیہ دنوں میں نریندر مودی کو جو ایوارڈ دئیے گئے وہ بھی اسرائیلوں اور امریکیوں کے کہنے پر دئیے گئے۔تم صحافی بنے پھرتے ہو تمہیں نہیں معلوم کہ اسرائیل بھارت میں ایک ائیر بیس قائم کر رہا ہے۔اس سال کے جو چار ماہ باقی ہیں ان کا قصہ سن لیں۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مودی کی خوب درگت بنے گی۔22 ستمبر کومودی جب این آر جی سٹیڈیم ہیوسٹن میں خطاب کرے گا تو اسٹیڈیم کے باہر 20 سے 25 ہزار لوگ مودی کے خلاف مظاہرہ کریں گے۔جن میں پاکستانیوں ،کشمیریوں،بدھسٹ،عیسائیوں اور سکھوں کی کثیر تعداد شریک ہو گی۔اور وہاں پر “کشمیر بنے گا پاکستان” کے علاوہ “آزاد ناگا لینڈ ” اور خالصتان کے نعرے بھی بلند ہوں گے۔مودی امریکہ سے مایوسیوں کے سائے میں لوٹے گا،اکتوبر کے دوسرے یا تیسرے ہفتے میں کشمیر میں پلوامہ کے طرز پر ایک اور

ڈرامہ رچایا جائے گا۔اس ڈرامے کی بنیاد پر بھارتی فوج کشمیریوں پر مظالم میں اضافہ کر دے گی اور ساتھ ہی آزاد کشمیر پر حملہ کر دے گی۔یہ حملہ اکتوبر کے آخر یا نومبر کے وسط تک ہو سکتا ہے۔پاک فوج اس حملے کا بھرپور جواب دے گی۔کشمیری بھی اپنا حق ادا کریں گے۔جس کے نتیجے میں بھارتیافواج کو کشمیر چھوڑنا پڑے گا۔بھارت میں متشدد سوچ میں اضافہ ہو گا۔اس وجہ سے وہاں کی سیاسی قیادت بالخصوص نریندر مودی کی زندگی کو بھی خطرات لاحق ہوں گے۔آج کل بھارتی ہندو مودی کو باپو کہہ کر پکار رہے ہیں۔یہ لوگ گاندھی کو بھی باپو کہتے تھے۔اور پھر مہاتما گاندھی کو قتل کرنے والے بھی آر ایس ایس کے لوگ تھے۔مظہر برلاس مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر کی آزادی کے بعد اگلے سال یعنی کہ 2020ء میں بھارت پانچ ملکوں میں تقسیم ہو گا۔دوسری جانب چین نے افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کی خواہش کا اظہار کردیا، چین کی جانب سے افغان امن عمل کی کامیابی کیلئے مکمل حمایت کا اعلان، چینی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ قیام امن سے افغانستان بھی گوادر بندر گاہ سے فوائد حاصل کر سکے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان،چین اورافغانستان کے سہ ملکی مذاکرات ہوئے۔

Categories
آرٹیکلز

سورۃ آل عمران میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کس کس کامیابی کی نشانیاں موجود ہیں ؟ بڑے کام کی تحریر منظر عام پر آ گئی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)بدیل شدہ معاشرہ، تبدیل شدہ سیاست واقتصادیات، تبدیل شدہ روایاتِ ملازمت ،تبدیل شدہ قانون وضوابط، تبدیل شدہ ادب وصحافت، تبدیل شدہ آداب تعلق وعزیز داری، تبدیل شدہ تعزیز اسلامی، تبدیل شدہ اخلاقیات تعلق داری و رشتہ داری، تبدیل شدہ یاری ووفاداری ، تبدیل شدہ منصب ومراعات، غرضیکہ

تبدیل شدہ پاکستان میں سابقہ درجنوں وزیران ومشیران رکھنے کے نامور کالم نگار نواز خان میرانی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ بجائے اگر صرف اور صرف احکامات الٰہی کی تقلید و تابعت کی جائے، تو قیامت تک کے لیے مسائل مجموعی کا حل اس میں موجود ہے۔ قارئین کرام ، میں سورةآل عمران میں سے چند آیات کا ترجمہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں، آپ دیانت داری سے بتائیں، کیا ہمارے موجودہ وسابقہ مسائل کا حل اس میں موجود نہیں؟ ارشاد الٰہی سے پہلے ” عمران “ کے لفظی معنی ومفہوم سن لیجئے، عمران حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت مریمؑ کے والد محترم کا نام، ابوطالب (عمِ رسول ) کا نام ہے۔ حکومت عمران کے لیے پہلے قوم کو سودن کا مژدہ سنایا گیا پھر ایک سال کی مہلت مانگی گئی، اور اب تو کہتے ہیں حکومت کے ابھی چارسال پڑے ہوئے ہیں، اتنی کیا جلدی ہے، اور اب تو ماشاءاللہ سپہ سالار وطن کا دست شفقت تین سال کے لیے موجود رہے گا، تقاضہ بشریت اور قانون قدرت تو اشرافیہ سمیت ہرکس وناکس کے لیے یکساں کارفرما رہتا ہے، کیونکہ آصف نواز جنجوعہ، ضیاءالحق مرحوم ومغفوراور دیگر شخصیات کا ماضی قوم کے سامنے ہے۔ قارئین اس سورہ کے نزول سے پہلے کے کچھ

واقعات کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے، کہ اس سے آل عمران سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی، جنگ بدر جس کا تذکرہ ہماری موجودہ سیاست میں بھی ہوتا رہا ہے، اہل ایمان کو اس میں فتح حاصل ہوئی تھی، لیکن یہ جنگ بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر تھی، کیونکہ اس اولین مسلح مقابلے نے عرب کی ان تمام طاقتوں کو چونکا کر رکھ دیا تھا، جو اس نئی اسلامی تحریک سے عداوت ودشمنی رکھتی تھیں، ہرطرف طوفان کے آثار نمایاں تھے، مسلمانوں پہ قدرے بے اطمینانی کی حالت طاری تھی، اور بظاہر اس طرح محسوس ہوتا تھا، کہ ریاست مدینہ کی یہ چھوٹی سی بستی جس نے اسلام کی خاطر گردوپیش کی ساری دنیا سے لڑائی مول لے لی ہے، صفحہ ہستی سے ہی مٹا دی جائے گی۔ ان حالات کا مدینے کی معاشی حالت پر بھی نہایت برا اثر پڑ رہا تھا، اول تو یہ ایک چھوٹے سے قصبے میں جس کی آبادی چند سوگھروں سے زیادہ نہیں تھی، یکایک مہاجرین کی ایک بڑی طاقت کے آجانے سے معاشی توازن بگڑ چکا تھا، اس پر مزید مصیبت حالت جنگ کے آجانے کی وجہ سے نازل ہوگئی۔ قارئین کرام، ذرا سوچئے کہ پاکستان کے عوام کو ایسی صورت حال کا تجربہ اس وقت نہیں ہوا تھا، کہ جب

جنرل ضیاءالحق شہید کے زمانے میں بالکل ایسے ہی روس کے افغانستان پر چڑھ دوڑنے سے ریاست پاکستان کے وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا، اور افغانستان سے پاکستان میں ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی کثیرتعداد پاکستان میں آگئی تھی، کہ جن کے اثرات ابھی تک پاکستانی معاشرے پہ موجود ہیں، دراصل ریاست مدینہ کی سیاست وروایات اخوت وایثار کی ایک زریں تاریخ کو دہرایا گیا تھا۔ ہجرت کے بعد رسول پاک نے اطراف مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ جو معاہدے کئے تھے، ان لوگوں نے ان معاہدات کا ذرہ برابر پاس نہیں کیا جنگ بدر کے موقعے پر ان کی ہمدردیاں، جو”اہل کتاب“ تھے، اہل کتاب جو دوسری ساری کتابوں کے ماننے والے، اور تمام کتابوں پہ ایمان رکھتے تھے بلکہ
حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہ ایمان نہ رکھنے کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہ تھا، یہاں تک کہ مسلمان اس وقت تک ”مسلمان“ ہی نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پہ یقین وایقان نہ رکھیں بلکہ اس وقت انہوں نے اہل کتاب کے بجائے مشرکین اور بت پوجنے والوں کے ساتھ تھیں۔ بدر کے بعد تو یہ لوگ کھلم کھلا قریش اور قبائیلان عرب کو مسلمانوں کے خلاف، جوش دلا دلا کے بدرکا بدلہ لینے کے لیے

اکسانے لگے ۔خصوصاً بنی نضیر کے سردار کعب بن اشرف نے اس سلسلے میں اپنی مخالفانہ اندھی عداوت کو کمینے پن تک پہنچا کر اہل مدینہ کے ساتھ ان یہودیوں کی ہمسائیگی اور دوستی کے جو تعلقات صدیوں سے قائم تھے، اس کا بھی لحاظ نہیں کیا، اور رقابت ودشمنی کے لیے اپنے آپ کو غرق کرلیا، اور اسے کمینے پن تک پہنچا دیا۔ آخر کار جب ان کی شرارتیں، اور وعدہ خلافیاں حد برداشت سے بڑھ گئیں۔ قارئین بالکل اسی طرح جیسے موجودہ دور میں کشمیر میں بھارتی مودی سرکار کی مسلمان دشمنی اپنے سارے حقوق ہمسائیگی اور وعدے وعید اور عہدو پیمان توڑ کر اپنے نام کے ساتھ ایشیا کا ہٹلر بننے کا القاب لگواچکی ہے کیا یہ بھی ریاست مدینہ کی یادتازہ نہیں کررہی ؟تب ان کی مکاریاں اور عیاریاں اور وعدوں اورمعاہدوں کو ٹوٹتا دیکھ کر رسول اللہ نے غزوہ بدرکے چند مہینے بعد بنی قنیقاع قبیلے پر، جو ان یہودی قبائل میں سب سے زیادہ شریر لوگ تھے، حملہ کردیا اور ان کو مدینے کے اطراف سے باہر نکال دیا۔ یہ دیکھ کردوسرے یہودی قبائل کی آتش عناد اور زیادہ بھڑک اٹھی، اور انہوں نے مدینے کے ”منافق مسلمانوں“ اور حجازکے کافروں کے ساتھ سازباز کرکے اسلام دشمنی میں

اپنے آپ کو ”بے نقاب“ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی …. اور یہ اندیشہ اور خطرہ بھی ظاہر ہوگیا، کہ یہ کافر حضور پہ بھی حملہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے، اس لیے صحابہ کرام ؓ بالعموم ہتھیار بند ہوکر سوتے تھے شب خون کے ڈرسے راتوں کو پہرے دیئے جاتے تھے، حضور اس زمانے اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی کہیں ان کی نظروں سے دور ہو جاتے، تو صحابہ کرامؓ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آپ کے گھرتک پہنچ جاتے۔ بدرکی شکست فاش کے بعد کافروں کے دلوں میں آپ ہی سے انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی، جس پر مزید تیل یہودیوں نے چھڑکا، قارئین اس کی ایک جھلک آپ نے کشمیر میں مودی کی حالیہ کشمیر کو بھارت کا ”آئینی حصہ“ بنانے کی سازش میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی آشیرباد اور فلسطین کی بستیوں کو اسرائیل کا باقاعدہ حصہ بنانے کے طریق کار کو اپنانے کے لیے گھناﺅنی اور مکروہ حرکت آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی ہے۔ اب آپ کا کیا خیال ہے، کہ مسئلہ کشمیر کے معاملے میں ٹرمپ ، بھارت کو چھوڑ کر ہماری مدد کرے گا، جو خود کہہ چکا ہے، کہ کچھ عرصہ قبل مودی مجھ سے مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کرچکا ہے، ٹرمپ تو وہ ”شاہ کار“ ہے جس نے علانیہ فلسطین کے مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے، اسرائیل کی حمایت کی تھی، بقول حضرت اقبالؒ۔۔۔ تیری وفا نہ جنیوا میں ہے نہ لندن میں ۔۔ فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے

Categories
آرٹیکلز

23 دن ہو گئے ہیں ، ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ عمران خان نے ۔۔۔۔۔ بابر اعوان نے ایسا انکشاف کر دیا کہ آپ کپتان زندہ باد کا نعرہ لگا دیں گے

لاہور(ویب ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنما ماہرقانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ ماضی میں کشمیرپس منظر میں تھا لیکن عمران خان نے ایسی پالیسی بنائی کہ پاکستا ن کا مقابلہ بھارت سے نہیں بلکہ ایسے دشمن سے ہے جو آرایس ایس کے نظریہ پر قائم ہیں ،اس کی فوج شدت پسند ہے۔

 

نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان سعدیہ افضال سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے 23روز ہونے کے باوجود ایک بھی روز ایسانہیں ہے کہ انہوں نے بات نہیں کی ہو۔ اب ہمیں 27 ستمبر جو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے پہلے ہمیں قومی اتفاق رائے درکار ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاہے کہ مسلم امہ کے دو حصے ہیں ایک رولنگ ایلیٹ ہے دوسرا عوام ہیں۔ آج پاکستان کو کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ ڈو مورکرے ، وزیراعظم سارے مسلم رہنماؤں سے رابطے میں ہیں ۔اگر ہم بھارت کیلئے فضائی حدود بند کردیتے ہیں تو ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ بھارت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوگا ۔ بھارت پہلے کہتا تھاکہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اب وہ یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان باہمی تنازع ہے ۔ نوازشریف نے بے نظیر بھٹو کے خلاف انتہائی گھٹیا حرکتیں کیں شرمیلا فاروقی کی بھی بے بنیاد تصا ویر شائع کرائی گئی لیکن ا ب یہ شورمچاتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو گرفتار کیا گیاہے ۔جس مقدمے میں نوازشریف بری ہوجائیں اس میں تو انہیں انصاف ملتا ہے لیکن جس میں سزا ہوجائے اس میں کہتے ہیں کہ انصاف نہیں ہوا ۔ فضل الرحمان نے ڈیڑھ لاکھ تو ووٹ لیے ہیں ان کے پاس کون سے عوام ہیں وہ کراچی میں بھی مدارس کے چھوٹے چھوٹے بچے لائے ۔ انہوں نے کہاکہ گلو بٹ سے ناصربٹ تک جس نے بھی شریف فیملی کا ساتھ دیا اسے انہوں نے استعمال کرنے کے بعد ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیا۔ماڈل ٹاؤن کا کیس چلے گا۔فوج پاکستان کا آخری نہیں بلکہ پہلا اور آخری محافظ ہے ۔ نوازشریف کو صرف اپنے مفادات کی فکرہے ۔ (ش س م)

Categories
آرٹیکلز

یہ کون سا بزنس ہے بھائی ۔۔۔۔مریم نواز کے اثاثے دن بدن کیسے بڑھتے جارہے ہیں؟ انکشاف نے سب کو دنگ کر ڈالا

لاہور(ویب ڈیسک)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کے اثاثے دن بدن کیسے بڑھتے رہے، تفصیلات سامنے آ گئیں، دستاویزات کے مطابق مریم نواز کو 6 سال کے دوران 79 کروڑ 42 لاکھ 60 ہزار روپے تحفے میں ملے،مریم نواز رقوم اورتحفے نواز شریف،حسن نوازاورحسین نوازسے وصول کرتی رہیں،مریم نواز تحفے وصول کرتے کرتے کروڑوں روپے کی مالک بنتی گئیں۔

 

دستاویزات کے مطابق مریم نوازکے اثاثے7کروڑ35لاکھ سے بڑھ کر 83 کروڑ 7لاکھ 30ہزارروپے ہوگئے، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نواز کا کوئی ایسا ذریعہ نہیں تھا جس سے ان کی آمدنی روزبروز بڑھتی،دستاویزات کے مطابق مریم نواز کو 2011 میں 3 کروڑ 70 لاکھ اور 2012 میں 5 کروڑ 16 لاکھ کے تحائف ملے، 2013میں3 کروڑ 58 لاکھ ،2014 میں 19 کروڑ 20 لاکھ روپے کے تحائف ملے، 2015میں 31کروڑ5لاکھ روپے اور2016 میں 17 کروڑ 25 لاکھ روپے کے تحائف ملے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین شبر زیدی نے واضح کیا ہےکہ 50 ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط موجود ہے لیکن کارروائی ستمبر تک روک دی ہے۔کراچی میں مینجمنٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ انکم ٹیکس فائلر کی تعداد 25 لاکھ سے بڑھ گئی ہے، انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے کا مرحلہ مزید آسان کررہے ہیں، سیلز ٹیکس گوشوارے کی مانٹیرنگ کیلئے سافٹ ویئر لانچ کردیاہے، سیلز ٹیکس سافٹ ویر ٹیکس دہندگان پر عائد سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تعین کرے گا۔انہوں نے کہا کہ کوشش کررہے ہیں مرکزی سسٹم آجائے کہ کتنا پیسہ منتقل ہورہا ہے، ہم نے دکانداروں کوسمجھایا ہے، دو علیحدہ اسکیم دی ہیں، قومی شناختی کارڈ کی شرط موجود ہے لیکن کارروائی ستمبر تک روک دی ہے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھاکہ ٹیکس ادا کرنے والے کو فارن کرنسی اکاؤنٹ کھولنے کی اجازت ہے، ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے ڈاکٹرز، انجینئر اور تعلیمی اداروں کو نوٹس بھیجے ہیں، جو بھی سیکٹر آمدنی کرتا ہے، اسے ٹیکس دینا ہوگا، بڑی تعداد میں ریسٹورنٹس کو ٹیکس ادا کرنے کا پابند کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کوپیسوں کی منقلی میں سہولت ہونی چاہیے، سیلز ٹیکس ادا کرنے والے صارف پکی رسید حاصل کریں، سیلزٹیکس بنیادی طور پر سرکاری رقم ہوتی ہے، ذاتی رائے ہے ٹیکس ادا کرکے بیرون ملک جانے والوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔شبر زیدی نے مزید کہا کہ بے نامی اثاثے ڈھونڈنا آسان نہیں ہے، وہی بے نامی اثاثے سامنے آئے جو عدالت کے ذریعے سامنے آئے، بے نامی اثاثوں پر کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی، ان کی تلاش کیلئے وزیراعظم نے بھی سخت احکامات دیے ہیں۔

Categories
آرٹیکلز

ن لیگی ایم پی اے راحیلہ خادم رنگے ہاتھوں پکڑی گئی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہے بڑے بڑے رہنما اس وقت جیل میں ہیں جو باقی بچے ہیں اُن کے خلاف نیب اور اینٹی کرپشن میں کیسز زیر سماعت ہیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی اس وقت جیل میں ہیں بُرا وقت ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔

اب مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم بجلی چوری کرتے رنگے ہاتھں پکڑی گئی ہیں ۔ لیسکو کے ذرائع کے مطابق ن لیگی ایم پی اے کی رہائش واقع لاریکس کالونی مغلپورہ میں بوگس میٹر لگا کر بجلی چوری کی جا رہی تھی رات گئے لیسکو ٹیم نے چھاپہ مار کر سب کچھ اپنے قبضے میں لے لیا ایک اندازے کے مطابق 5 لاکھ روپے سے زائد کی بجلی چوری کی گئی ہے۔خاتون رکن اسمبلی راحیلہ خادم کے خلاف واپڈا حکام کی جانب سے تھانہ مغلپورہ میں اندراج مقدمہ کے لئے درخواست جمع کروا دی گئی ہےدوسری جانب پاکستانی عوام کو وزیر اعظم عمران خاں پر بھرپور اعتماد ہے جس کی وجہ سے ان کے دور حکومت میں ٹیکس جمع کروانے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں انکم ٹیکس فائلرز کی تعداد 25 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے شبر زیدی کا کہنا تھا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کے مرحلے کو مزید آسان کر دیا گیا ہے اس کے لئے ایک سوفٹ ویئر تیار کیا گیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایسا مرکزی نظام آ جائے کہ جس سے معلوم ہو سکے کہ کتنا پیسہ منتقل ہو رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی شرط ختم نہیں کی بلکہ شناختی کارڈ کی شرط ابھی بھی برقرار ہے صرف ستمبر کے مہینے تک اس پر عملدرآمد روکا گیا ہے

Categories
آرٹیکلز

پاکستانی حکومت کھل کر میدان میں آگئی، کشمیریوں کو وہ خبر سُنا دی جس کا کشمیری 70 سالوں سے انتظار کر ہےتھے

لاہور(ویب ڈیسک)حکومت پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے شہریوں پر ہونے والے بھارتی مظالم اور حالیہ صورتحال کے پیش نظر کشمیری عوام کی حمایت میں قومی یکجہتی کا دن منانے کا اعلان کردیا۔گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کے ہمراہ گورنر ہاؤس لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا

کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے کسی بھی روز قومی یکجہتی کا دن منایا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پورا دن کشمیریوں کے لیے مخصوص ہوگا جہاں پورا پاکستان کشمیر کاز کے لیے اپنے عزم، محبت، احترام اور اتحاد کا پیغام دے گا۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ’آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی آواز کو کاٹ دیا گیا ہے، وہاں اس وقت کوئی رابطہ نہیں، سوشل میڈیا کی رسائی نہیں اور نہ ہی بین الاقوامی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے صحافیوں نے جس طرح مقبوضہ وادی کے صحافیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔‘فردوس عاشق اعوان نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ ہفتے وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب بھی کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری ہے، بھارت نے وادی میں ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، جبکہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے۔فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کشمیر کاز کی حمایت اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے ترجمانی گروپ تشکیل دیا ہے جس کے ہفتہ وار اجلاس وزیراعظم خود کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان اجلاس کے دوران ترجیحات طے کرکے مرحلہ وار ان پر عمل بھی کیا جارہا ہے۔اس موقع پر گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کا کہنا تھا کہ ’ہم کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔’گورنر پنجاب نے کہا کہ بھارتی قابض انتظامیہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 20 روز سے نافذ کرفیو کے بعد اب خوراک اور ادویات کی شدید قلت ہوچکی ہے۔چوہدری محمد سرور نے یہ بھی کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہر فورم پر بات کریں گے۔